خطبات محمود (جلد 17) — Page 574
خطبات محمود ۵۷۴ سال ۱۹۳۶ کہ تجھے اور تیری قوم کو کنعان کی حکومت دی جاتی ہے۔بنی اسرائیل نے آگے سے یہ کہہ دیا کہ اِذْهَبُ اَنتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلا إِنَّا هَهُنَا قَاعِدُونَ لے جاموسی تو اور تیرا رب لڑتے پھر وجب فتح ہو جائے گی تو ہم بھی شامل ہو جائیں گے۔اس وقت تک تو ہم یہیں بیٹھے ہیں۔موسیٰ اور اس کا خدا اکیلے رہ گئے مگر باوجود اس کے کنعان پھر بھی فتح ہوا اور کنعان پر تیرہ سو سال تک بنی اسرائیل حکومت کی۔حضرت مسیح علیہ السلام کو جب صلیب کا واقعہ پیش آیا حواری سب بھاگ گئے بلکہ ایک حواری نے تو آپ پر لعنت بھی کی اور کہا میں نہیں جانتا یہ کون ہے؟ یہ سب کچھ ہوا مگر کیا عیسائیت دنیا میں نہیں پھیلی ؟ کیا وہ یونہی رک کر رہ گئی؟ پس میں اس یقین پر قائم ہوں اور سمجھتا ہوں کہ جو شخص اس یقین پر قائم رہے گا وہی اپنے ایمان کو سلامت لے کر نکلے گا کہ سلسلہ افراد کی تعداد پر قائم نہیں بلکہ اخلاص پر قائم ہے۔جس شخص کے دل میں یہ خیال ہو کہ ہر گندی چیز کو ہم میں اور رکھ لیں وہ نہ سلسلہ کی خدمت کر سکتا ہے اور نہ سلسلہ کو کوئی نفع پہنچا سکتا ہے۔میرا مطلب یہ نہیں کہ خواہ مخواہ بیٹھے بٹھائے جس کو خدا تمہارے پاس بھیجے اس کو نکالو یہ خود ایک بھاری گناہ اور عذاب کا موجب ہے بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص پوری وضاحت اور انکشاف کے بعد اپنے آپ کو اسلام کیلئے مفید بنانے کیلئے تیار نہیں ہے تو وہ اپنے آپ کو سلسلہ سے آپ نکالتا ہے تم اسے نہیں نکالتے۔ایک کمزور اور ناطاقت جس میں چلنے کی طاقت نہیں اگر تم اُسے دیکھ تو تمہارا کام ہے کہ اُسے اُٹھاؤ اور لے چلو۔ایک ناواقف اور جاہل جسے کوئی علم نہیں اگر وہ تمہارے پاس آتا ہے تو تمہارا کام ہے کہ اسے بتاؤ اور اپنے ساتھ شامل کر ومگر ایک واقف اور آگاہ شخص جو ٹانگیں رکھتے ہوئے بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے إِنَّا هُنَا قَاعِدُونَ تمہارا فرض ہے کہ تم اُسے سلام کر کے کہہ دو آج سے میں اور تم الگ ، ہمارا تم سے کوئی تعلق نہیں۔: تمہارے نفس میں اس رنگ میں خدا پر تو کل قائم ہو گا تب تم دنیا میں کامیابی حاصل کر سکو گے جب تم اپنے آپ کو دیوانگی کے مقام پر کھڑا کر لیتے ہو تب تم منزل مقصود پر بھی کامیابی کے ساتھ پہنچ سکتے ہو۔یہ مت خیال کرو کہ تمہارے دائیں اور بائیں ایسے لوگ ہیں جو اندر سے ہو کر تمہاری مخالفت کرتے ہیں وہ منافق ہیں اور منافق کی مثال چوہے کی سی ہوتی ہے جس نے بلی کی میاؤں