خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 575

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ سنی اور وہ بھاگا۔مثل مشہور ہے ہے کہ کچھ چوہے تھے انہوں نے آپس میں مشورہ طلب کیا کہ بلی نے ہمیں سخت ستایا ہوا ہے آؤ ہم اسے مل کر پکڑیں۔آخر صلاح ٹھہری کہ والنٹیئر ز طلب کرو جو اپنی جانیں قربان کر دیں اور قوم کو اس مصیبت سے نجات دیں۔چنانچہ پچاس ساٹھ چوہے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم اپنے آپ کو اس خدمت کیلئے پیش کرتے ہیں کہ اگر بلی آئی تو ہم اُس کا دایاں پاؤں پکڑ لیں گے۔پچاس ساٹھ چوہوں نے کہا ہم اُس کا بایاں پاؤں پکڑ لیں گے۔اسی طرح والنٹیئرز کھڑے ہوتے گئے اور انہوں نے بلی کا تمام جسم آپس میں تقسیم کر لیا اور کہا ہم اسے پکڑ کر وہیں مار دیں گے۔جب سب حصے وہ آپس میں تقسیم کر چکے تو ایک بوڑھا چوہا کہنے لگا تم بتی کے پاؤں اور اُس کے دیگر اعضاء سے اتنا نہیں ڈرتے جتنا اُس کی میاؤں سے ڈرتے ہو اس لئے یہ بتاؤ کہ اس کی میاؤں کو کون پکڑے گا۔ادھر اُس نے یہ کہا اور ادھر اتفاقاً ایک بلی نمودار ہوگئی اور اس نے کہا میاؤں۔میاؤں کا سننا تھا کہ سارے چو ہے اپنی اپنی پلوں میں گھس گئے یہی حال منافق کا ہوتا ہے وہ دعوے بہت کرتا ہے لیکن ہو تا سخت ڈرپوک ہے۔بھلا وہ منافق جو قلیل التعداد دوستوں کے سامنے کھل کر بات کرنے سے ڈرتا ہے وہ کثیر التعداد دشمنوں کا کہاں بلہ کر سکتا ہے۔ابتدائی مؤمنوں کی تعداد تو کفار کے مقابلہ میں ہمیشہ قلیل ہوتی ہے۔رسول کریم اور آپ کے صحابہ کی تعداد دشمنوں کے مقابلہ میں دسواں حصہ بھی نہ تھی یہی حال ہمارا ہے۔۳۳ کروڑ ہندوستان کے باشندے ہیں ان میں الا مَا شَاءَ اللہ شریف الطبع لوگوں کو مستثنیٰ کرتے ہوئے بہت سے ہمارے جانی دشمن ہیں۔بہت سے ایسے ہیں جنہیں سلسلہ کی چونکہ واقفیت نہیں ہوتی اس لئے مولوی انہیں ورغلا لیتے ہیں۔پس وہ جو ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ان کے مقابلہ میں ہماری تعداد ہے ہی کیا۔پھر تم منافق سے یہ کس طرح امید کر سکتے ہو اور تمہاری یہ امید کس طرح صحیح سمجھی جاسکتی ہے کہ وہ اتنے بڑے دشمنوں کا مقابلہ کرے گا جبکہ تم دیکھتے ہو کہ تم اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں سینکڑوں گنے کم ہو لیکن وہ تم سے ڈرتے ہیں اور تمہارے سامنے بات نہیں کر سکتے۔جولوگ ہمارے جیسی قلیل اور بے کس جماعت سے ڈرتے اور خوف کھاتے ہیں وہ ہم سے مل کر کئی گنے طاقتور دشمنوں کا مقابلہ کس طرح کر سکتے ہیں۔وہ تو صرف ایک ہی کام کر سکتے ہیں اور وہ یہ کہ تمہاری صفوں کو پراگندہ کریں ، تمہاری چغلخوری اور عیب جوئی کریں اور تمہاری دشمنوں