خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 560

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۵۵۱ سال ۱۹۳۶ء عدوان میں تعاون نہ کرو۔ پہلا جرم تو انہوں نے یہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِيكُمْ نَارً اسے اپنے آپ کو اور اپنے بیوی بچوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ مگر انہوں نے ایسا نہ کیا اور دوسرا جرم یہ کرتے ہیں کہ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ کے حکم الہی کو توڑتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ تو دین کو نعمت قرار دیتا ہے مگر وہ جماعت جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی دعویدار ہے اس میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اول تو اپنی اولادوں کو دین سے محروم رکھتے ہیں اور پھر جب وہ شرارت کریں تو ان کی مدد کرتے ہیں حالانکہ وہ بعض ایسے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں کہ جن پر شرافت اور انسانیت بھی چلا اٹھتی ہے چہ جائیکہ احمدیت اور ایمان ان کے متحمل ہوسکیں ۔ مگر ایسے مجرموں کے والدین، بھائی ، رشتہ دار بلکہ دوست ان کی مدد کرتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ایسا کرنے سے ایمان کہاں باقی رہ جاتا ہے ایسے آدمی کا دین تو آسمان پر اڑ جاتا ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کو دیکھو ایک دفعہ بعض صحابہ نے آپ کے پاس کسی مجرم کی سفارش کی تو آپ نے فرمایا خدا کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو وہ بھی سزا سے نہیں بچ سکے گی ۱۴۔ تو تقویٰ اور طہارت ایسی نعمت ہے کہ اس کے حصول کیلئے انسان کو کسی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہئے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہمیں جو دولت ملی ہے وہ اعلیٰ اخلاق ہی ہیں اور اپنی اولادوں کو ان کا وارث بنانا ہمارا فرض ہے اور اگر غفلت کی وجہ سے اس میں کوئی کوتاہی ہو جائے تو مؤمن کا فرض ہے کہ وہ تعاون عَلَی الإِثْمِ نہ دکھائے بلکہ اُسی وقت اس سے علیحدہ ہو جائے جس نے جرم کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں سے اس کی ایسی مثالیں دکھائی ہیں کہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ایسا کرنا ناممکن ہے۔ سید حامد شاہ صاحب مرحوم بہت مخلص احمدی تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُن کو اپنے بارہ حواریوں میں سے قرار دیا تھا چنانچہ میرے سامنے جب اپنے حواریوں کے نام گئے تو ان ک کا بھی نام لیا اور پھر ان کے نیک انجام نے ان کے درجہ کی بلندی پر مہر بھی لگا دی۔ ایک دفعہ ان کے لڑکے کے ہاتھ سے ایک شخص قتل ہو گیا مگر یہ قتل ایسے حالات میں ہوا کہ عوام کی ہمدردی ان کے لڑکے کے ساتھ تھی ۔ دراصل مقتول کی زیادتی تھی جس پر لڑائی ہو گئی ان کے لڑکے نے اُسے مُکا مارا اور وہ مر گیا ۔ اس وقت سیالکوٹ کا ڈپٹی کمشنر جو انگریز تھا وہ ایسے افسروں میں سے تھا جو جُرم