خطبات محمود (جلد 17) — Page 561
خطبات محمود ۵۶۱ سال ۱۹۳۶ کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے ہونا چاہئے۔میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا بہر حال یہ ایک قدرتی امر ہے کہ ہر قوم کیلئے کوئی نہ کوئی سطح نظر ضرور ہوتا ہے اور قدرتی طور پر سب قو میں اپنے اپنے ماٹو کو اپنے سامنے رکھتی ہیں اور اس سے فائدہ اُٹھاتی ہیں۔صحیح نظر کا اصول یہ ہے کہ جس غرض کیلئے کوئی قوم یا انجمن بنی ہے وہ قوم یا انجمن اس غرض اور مقصد کو ہر وقت اپنے سامنے رکھے۔جس وقت فرانس کے بادشاہوں کے خلاف بغاوت ہوئی تو باغیوں کا صح نظر یہ تھا کہ ہم نے حریت، مساوات اور اخوت کو حاصل کر کے رہنا ہے اور اس مضمون کے بور ڈلکھ لکھ کر انہوں نے مختلف مقامات پر لگا دیئے تھے اور اپنی تقریروں میں بھی وہ ان باتوں پر زور دیتے تھے اور بازاروں میں پھر پھر کر لوگوں کو اپنے اس مطمح نظر کی طرف توجہ دلاتے تھے۔انگلستان کی تاریخ سے بھی یہ بات صاف طور پر معلوم ہوتی ہے کہ جب بھی وہاں اختلاف پیدا ہوا تو جو قوم بھی اُٹھی ہے اس نے اپنے لئے ضرور کوئی نہ کوئی مائو تجویز کیا ہے جس کو وہ اپنے سامنے رکھتی تھی۔پس تمام سوسائٹیاں اور انجمنیں یہ بتانے کیلئے کہ ہم کو دوسری قوموں سے کیا امتیاز ہے اپنے لئے ایک خاص سطح نظر تجویز کر لیتی ہیں۔کوئی انجمن یہ قرار دے لیتی ہے کہ اخلاق کی درستی اُن کے نزدیک سب سے بالا ہے، کوئی قوم یہ کہتی ہے کہ سب سے مقدم تعلیم کی ترقی ہے، کوئی سوسائٹی اپنا نصب العین یہ ٹھہرا لیتی ہے کہ ہم نے آزادی کو حاصل کرنا ہے اور اس کے بغیر ہماری زندگی زندگی کہلانے کی مستحق ہی نہیں۔غرضیکہ کوئی انجمن سیاسی ہوتی ہے تو کوئی تعلیمی اور ہر ایک نے اپنے لئے کوئی نہ کوئی مائو تجویز کر رکھا ہوتا ہے اور وہ اس بات کا خاص طور پر خیال رکھتے ہیں کہ جس بات کیلئے ہماری جماعت قائم ہوئی ہے اس کو دنیا میں قائم کرنا ہے اور اس بات کو اپنی جماعت کے سامنے بھی ہر وقت موجود رکھنا ہے۔دنیا میں ہزاروں قسم کی نیکیاں ہیں اگر ہم ان میں سے ایک نیکی کو چن لیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسری نیکیاں اس قابل نہیں کہ ان کے حصول کی کوشش کی جائے اور صرف یہ ایک نیکی جس کو ہم اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں اس قابل ہے کہ اس کو اختیار کیا جائے بلکہ مطلب