خطبات محمود (جلد 17) — Page 512
خطبات محمود ۵۱۲ سال ۱۹۳۶ تھی کہ جنگ عظیم میں ہر قسم کی قربانیاں لینے کے بعد فرانسیسیوں اور انگریزوں نے گوشت گوشت تو خود رکھ لیا اور ہڈیاں اٹلی کو دے دیں۔تمام اعلیٰ ملک اور زرخیز علاقے اپنے قبضہ میں کرلئے اور اٹلی والوں کو محض پر چا دیا۔اس کے بعد مسولینی اُٹھا اور اُس نے فرمانبرداری کی روح اٹلی والوں میں پیدا کرنی شروع کر دی۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ اٹلی والوں کے پاس کوئی مذہب نہیں ان کے ساتھ خدا تعالیٰ کی وہ تائید نہیں جو بچے مذہب والوں کے ساتھ ہوا کرتی ہے محض فرما نبرداری کی روح کے نتیجہ میں وہی اٹلی جسے جنگ عظیم کے بعد فرانسیسیوں اور انگریزوں کی نے دھتکار کر پرے کر دیا تھا آج چیلنج دے رہا ہے، متواتر اور بار بار چیلنج دے رہا ہے کہ اگر کسی طاقت میں دم خم ہے تو اس کا مقابلہ کر لے۔مگر وہی طاقتیں جو پہلے اسے ذرا ذرا سی بات پر گھورا کرتی تھیں اس طرح چُپ کر کے بیٹھ گئی ہیں گویا وہ دنیا میں ہیں ہی نہیں۔آج سے بارہ سال پہلے کے اٹلی میں فرمانبرداری کی روح نہیں تھی اس لئے وہ ذلیل تھا مگر آج بارہ سال کے بعد اٹلی میں فرمانبرداری کی روح پیدا ہو گئی اس لئے وہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگ گیا۔بیعت کا مفہوم تو ہے ہی یہ کہ انسان اطاعت میں اپنے آپ کو فنا کر دے اور یہ مفہوم اتنا بلند ہے کہ دنیوی امور میں فرمانبرداری اس کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتی۔آج دنیا میں کون سا بادشاہ ہے جولوگوں سے بیعت لیتا ہو۔بیعت تو سوائے اسلام کے اور کہیں نہیں۔پس بیعت کا مقابلہ دنیا کی فرمانبرداری نہیں کر سکتی۔بیعت کے معنی بیچ ڈالنے کے ہیں اور جب کسی نے اپنے آپ کو بیچ ڈالا تو پھر کون سی چیز ہے جو اس کی رہ سکتی ہے۔پس یہ گر کہ اَطِيْعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمُ سے ایسا ہے کہ جب تک کوئی قوم اس پر عمل نہیں کرتی خواہ وہ بچے مذہب کی پابند ہویا اس سے ناواقف کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔یہی روح ہے جس کو میں تحریک جدید کے ماتحت پیدا کرنا چاہتا ہوں۔مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایک طبقہ جماعت کا ایسا ہے کہ نہ وہ بید کا مفہوم سمجھتا ہے، نہ وہ تحریک جدید کا مفہوم سمجھتا ہے اور نہ اطاعت کا مفہوم سمجھتا ہے۔بے شک ہر جماعت میں کچھ کمزور لوگ ہوتے ہیں مگر کمزور ہونا کوئی عزت کا موجب نہیں کہ ہم کہیں چونکہ تمام جماعتوں میں کمز ور لوگ ہوا کرتے ہیں اس لئے ہمارے اندر بھی کمزور لوگوں کا ہونا قابل اعتراض نہیں۔کمزوری ایک بُری چیز ہے اور اس کا مٹانا ہمارا فرض ہے اگر ہم اپنی کمزوری کو نہیں مٹا سکتے تو