خطبات محمود (جلد 17) — Page 513
خطبات محمود ۵۱۳ سال ۱۹۳۶ یقیناً ہم اپنی تباہی کے سامان آپ پیدا کرتے ہیں۔اطاعت اور فرمانبرداری وہ چیزیں ہیں جن کے بغیر دنیا کبھی ترقی نہیں کرسکتی۔رسول کریم ﷺ نے دنیا کا مقابلہ آخر کون سے سامان تھے جن سے کیا۔مال آپ کے پاس نہیں تھا ، سپاہیوں کی تعداد آپ کے پاس کم تھی ، سوار آپ کے پاس تھوڑے تھے ، سامانِ جنگ آپ کے پاس قلیل تھا، آپ نے جس چیز کے ساتھ دنیا پر غلبہ حاصل کیا وہ یہ تھی کہ آپ نے صحابہ میں یہ روح پیدا کردی کہ خواہ وہ آگ میں پھینکے جائیں یا سمندر میں ان کا فرض ہے کہ وہ اطاعت کریں۔مکہ والوں کے پاس اعلیٰ سے اعلیٰ فوجیں موجود تھیں، زیادہ سے زیادہ روپیہ جمع تھا کیونکہ وہ تاجر لوگ تھے ، ان کے پاس کھانے پینے کی چیزوں کی بہتات تھی، کپڑوں کی بہتات تھی ، تیروں کی بہتات تھی ، تلواروں کی بہتات تھی ، نیزوں کی بہتات تھی ، اعلیٰ نسل کے گھوڑوں کی بہتات تھی مگر ایک چیز نہیں تھی یعنی اطاعت اور فرمانبرداری کا مادہ نہیں تھا جس کی وجہ سے نہ ان کی فوجیں ان کے کام آئیں ، نہ ان کا روپیہ ان کے کام آیا، نہ تیروں اور تلواروں نے انہیں فائدہ پہنچایا اور نہ گھوڑے اور اونٹ انہیں غالب کر سکے۔اس کے مقابلہ میں رسول کریم ﷺ کے صحابہ میں یہ چیز موجود تھی اور اسی چیز نے انہیں کامیاب کیا۔بدر کی جنگ کے موقع پر دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو کفار نے آپس میں مشورہ کے بعد ایک سردار کو مقرر کیا جو دیکھے کہ مسلمانوں کے کتنے آدمی ہیں تا انہیں تسلی ہو اور وہ فتح و شکست کو کے متعلق اندازہ لگا سکیں۔انہوں نے مسلمانوں کا جائزہ لینے کیلئے جو سردار مقرر کیا وہ نہایت زیرک اور ہوشیار تھا۔مسلمانوں کو دیکھ کر جب وہ واپس گیا تو کہنے لگا آدمی تو وہ تین سو سوا تین سو ہیں (اور یہ اس کا کہنا بالکل ٹھیک تھا کیونکہ صحابہ ۱۳ ۳ تھے مگر میری نصیحت تمہیں یہی ہے کہ ان کا مقابلہ نہ کرو۔انہوں نے کہا یہ کیوں؟ وہ اتنے تھوڑے ہیں اور تم ہمیں ان کا مقابلہ کرنے سے ڈراتے ہو! ! وہ کہنے لگا اے میرے بھائیو! بے شک وہ تھوڑے ہیں مگر میں نے اونٹوں اور گھوڑوں پر آدمی سوار نہیں دیکھے بلکہ موتیں سوار دیکھی ہیں ہے۔یعنی تم یہ خیال نہ کرو کہ تمہارے پاس نیزے ہیں اور ان کے پاس نیزے نہیں، تمہارے پاس تیر ہیں اور ان کے پاس تیر نہیں ، تمہارے پاس تلوار میں ہیں اور ان کے پاس تلواریں نہیں تمہارے پاس تیر کما نہیں ہیں اور ان کے پاس تیر کما نیں