خطبات محمود (جلد 17) — Page 511
خطبات محمود ۵۱۱ سال ۱۹۳۶ کر دیتے ہیں تو نپولین نے کہا۔تم نے کہا نہیں ہوگا کہ نپولین کہتا ہے رستہ چھوڑ دو۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کہا تھا مگر انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس کا حکم نہیں مان سکتے کیونکہ ہم بائبل پر قسمیں کھا کر آئے ہیں۔نپولین کہنے لگا میں اس امر کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں کہ تم نے میرا نام لے کر کہا ہو کہ راستہ چھوڑ دو اور انہوں نے نہ چھوڑا ہو۔اب جاؤ اور کہو کہ نپولین کہتا ہے رستہ چھوڑ دو۔وہ پھر گئے اور انہوں نے یہی کہا مگر انہوں نے جواب دیا ہم اب یہ باتیں سننے کیلئے تیار نہیں۔ہم بائبل پر ہاتھ رکھ کر اور قسمیں کھا کر آئے ہیں کہ تمہارا مقابلہ کریں گے۔آخر نپولین خود چلا گیا اور کہنے لگا میں دیکھوں گا کہ وہ کس طرح میری بات نہیں مانتے۔نپولین ان کے سامنے ہوا اور کہنے لگا دیکھو! نپولین تم سے کہتا ہے کہ راستہ چھوڑ دو۔شاہی فوج کا افسر کہنے لگا جناب وہ دن گزر گئے اب اور بادشاہ ہے اور نئی حکومت ہم آپ کی بات کس طرح مان سکتے ہیں۔مگر نپولین جانتا تھا کہ اس نے لوگوں کو اپنی اطاعت کا جو سبق پڑھایا ہوا ہے وہ اتنی جلدی بھولنے والا نہیں۔وہ آگے بڑھا اور کہنے لگا بہر حال میری فوجوں نے آگے بڑھنا ہے اگر تم وہ اطاعت کا سبق جو تمہیں پڑھایا گیا تھا بھول چکے ہو تو لو یہ میرا سینہ کھلا ہے جس سپاہی کا دل چاہتا ہے کہ وہ اپنے بادشاہ کے سینہ میں گولی مار دے وہ گولی مار کر اپنا دل خوش کر سکتا ہے۔نپولین نے جونہی یہ الفاظ کہے وہ پرانا جذبہ وفاداری ان میں عود کر آیا اور معا سپاہیوں نے اپنی بندوقیں ہوا میں اُچھال دیں اور نپولین زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کر دیئے اور دوڑ کر اس کے ساتھ آملے اور کئی ان میں بچوں کی طرح روتے تھے جب یہ خبر جنرل نے کو ملی تو وہ فوج کا بڑا حصہ جو ابھی پیچھے تھا اس کو لے کر آگے بڑھا لیکن جس وقت نپولین کی آواز اس کی فوج کے کانوں میں پڑی کہ فرانس کے سپاہیو! تمہارا بادشاہ نپولین تم کو بلاتا ہے تو وہ فوج بھی اور جنرل نے بھی اپنے اقراروں کو بھول گئے اور صرف وہ اطاعت کا جذبہ ان کے اندر رہ گیا جسے نپولین نے ان کے دلوں میں پیدا کیا تھا اور وہ دوڑ کر اس کے گرد جمع ہوئے۔فرانس میں اس وقت اتنا تفرقہ اور فساد تھا کہ انسان صبح کو نہیں کہ سکتا تھا کہ وہ شام تک زندہ بھی رہے گا یا نہیں۔ہزاروں لاکھوں انسان اس تفرقہ اور فساد کے زمانہ میں مارے گئے مگر اس تفرقہ کو نپولین نے فرمانبرداری کی روح پیدا کر کے دور کر دیا اور ملک کی حالت کو یکدم بدل دیا۔اب دیکھ لو مسولینی کی وجہ سے اٹلی کو کس قدر عروج حاصل ہے۔اٹلی کی حالت اتنی ذلیل