خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 480

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۴۷۱ سال ۱۹۳۶ء انسان کامل طور پر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے آگے ڈال دے اور اس کے آستانہ پر گرادے اس سے آپ ہی آپ اسے سب کچھ حاصل ہو جائے گا اور جو ترقی اس کیلئے ضروری ہوگی وہ آپ ہی آپ مل جائے گی ۔ آگ کے پاس بیٹھنے والے کے اعضاء کو دیکھو سب گرم ہوں گے اس کا چہرہ ہاتھ پاؤں جہاں ہاتھ لگاؤ گے گرم محسوس ہوگا۔ تو پھر کس طرح ممکن ہے کوئی شخص سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر خدا کے پاس آئے اور اُس کے پاس بیٹھ جائے اور خدا تعالیٰ کا وجود اُس کے اندر سے ظاہر نہ ہو۔ آگ کے اندر لوہا پڑ کر آگ کی خصوصیات ظاہر کرنے لگ جاتا ہے گو وہ آگ نہیں ہوتا ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والے لوگوں سے خاص معاملات ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں كُنْ فَيَكُونُ والی چادر پہنا دیتا ہے ۔ حتی کہ نادان اُن کو خدا سمجھنے لگ جاتے ہیں حالانکہ وہ تو صرف خدا تعالیٰ کی صفات کا عکس پیش کر رہے ہوتے ہیں ۔ پس اگر کوئی مذہب سے فائدہ اُٹھانا چاہے تو اُس کا طریق یہی ہے کہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے آگے گلی طور پر ڈال دے لیکن اگر قوم کی قوم اس طرح کرے تو اس پر خاص فضل ہوں گے اور وہ ہر میدان میں فتح حاصل کرے گی ۔ ہماری جماعت کیلئے بھی یہی قدم اٹھانا ضروری ہے مگر بہت سے لوگ صرف کہہ دینا کافی سمجھتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ سے ایسی محبت کرنی چاہئے کہ ایک طبعی تھے بن جائے صرف جھوٹا دعوی نہ ہو کیونکہ جھوٹ اور خدا تعالیٰ کی محبت ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی ۔ جھوٹ ایک ظلمت ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت ایک نور پس نور اور ظلمت کیسے جمع ہو سکتے ہیں ۔ ایسے شخص کے اندر نہ سستی ہو نہ فریب نہ دغا ۔ کیونکہ یہ سب ظلمات ہیں اور خدا تعالیٰ ایک نور ہے اللَّهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ہے ۔ جب یہ بُرائیاں کسی قوم سے مٹ جائیں تو وہ قوم ذلیل نہیں رہتی اُس میں سے ذلت جاتی رہتی ہے اور عزت حاصل ہو جاتی ہے۔ پس اپنی ایسی اصلاح کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جس سے خدا تعالیٰ دوست بن جائے اور صرف منہ سے کہنے کا فائدہ نہیں نہ فتوی بازی سے کام چل سکتا ہے اور نہ اس سے فائدہ ہو سکتا ہے کہ ہم کوئی انجمن بنالیں یا کارخانے کھول لیں یہ سب باتیں مجزوی ہیں ۔ جو شخص ادنی باتوں سے آزاد ہونا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ڈال دے۔ ایسی حالت اگر لمحہ کیلئے بھی حاصل ہو تو دنیا میں تغیر پیدا کر دیتی ہے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ دو بادل ایک لمحہ کیلئے ملتے ہیں تو ان سے چمک پیدا ہوتی ہے