خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 425

خطبات محمود ۴۲۵ سال ۱۹۳۶ میں سے ارادہ کرنے والا سبق تو یاد کر لے گا اور نہ کرنے والا نہیں کرے گا۔دوسری صورت کی کی مثال یہ ہے کہ ایک طالب علم ارادہ تو کرتا ہے مگر اس ارادہ کے مقابلہ میں جو کام اس کے سپر د ہے وہ زیادہ ہے۔طالب علم سبق یاد کرنے کا ارادہ تو کرتا ہے مگر استاد بیوقوفی سے ایسی کتاب کا سبق اسے دے دیتا ہے جس کا وہ اہل نہیں۔مثلاً پرائمری کے طالب علم کو ایم۔اے کی کوئی کتاب پڑھاتا ہے اب یہاں ارادہ تو ہے مگر کام اتنا مشکل ہے کہ ارادہ اس پر غالب نہیں آسکتا یا ارادہ تو ہے مگر حافظہ اتنا خراب ہے کہ اس کی خرابی ارادہ پر غالب آجاتی ہے۔اس لئے جب تک ارادہ کی طاقت اور نہ بڑھ جائے یا جب تک اس سے زیادہ حافظہ پیدا نہ کیا جائے اُس وقت تک سبق یاد نہ ہوگا۔یا مثلاً حافظہ بھی اچھا ہے ارادہ بھی ہے مگر طالب علم کسی جگہ ملازم ہے اور اسے اتنا وقت ہی نہیں ملتا کہ سبق یاد کر سکے وہ جلدی جلدی کام ختم کرتا ہے کہ کتاب یاد کرنے کیلئے وقت مل جائے مگر وہ ادھر کتاب لے کر بیٹھتا ہے اور اُدھر اُس کا آقا اُسے دوسرا حکم دے دیتا ہے اور اسے مجبوراً کتاب رکھنی پڑتی ہے۔اب یہاں ارادہ بھی ہے ، حافظہ بھی ہے ، یاد کرنے کی قابلیت بھی ہے مگر وقت نہیں۔ایسے حالات میں ارادہ قوت مؤثرہ تھی اور سبق اور اس کے یاد کرانے کے ذرائع قوت کی متاثرہ اور اس کے معاون ارادہ نے جن آلات پر اثر ڈالنا تھا وہ اگر اس کے مؤید نہیں ہیں تو اس کی تمام کوششیں بے اثر ر ہیں گی۔پس یہ وقتیں ہیں جن کی وجہ سے انسان کو ناکامی ہوتی ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہم میں قوت ارادہ دونوں امور میں یکساں موجود ہے۔جب کوئی شخص ہماری جماعت میں داخل ہوتا ہے تو وہ یکساں قوت سے فیصلہ کرتا ہے کہ اپنے عقائد اور اعمال دونوں کی اصلاح کرے گا۔جب کوئی بچہ ہم میں پیدا ہوتا ہے تو وہ یکساں قوت کے ساتھ ارادہ کرتا ہے کہ وہ اسی طرح اپنے اعمال کو درست کرے گا جس طرح عقائد کو مگر ہر داخل ہو نیوالا شخص اور ہر بالغ ہونے والا بچہ ایک ہی جیسی طاقت اور ارادہ کے باوجود عقائد کی اصلاح میں تو کامیاب ہو جاتا ہے لیکن اعمال کی اصلاح میں نہیں۔ہم یکسانیت سے دشمن پر حملہ کرتے ہیں اس کے عقائد کو تو پہلے حملہ میں ڈگمگا دیتے ہیں لیکن اس کے اعمال میں سالہا سال کی کوشش کے باوجود ذرہ تبدیلی نہیں کر سکتے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ خود اپنے اعمال میں بحیثیت جماعت ہم اصلاح کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔گو ہم میں سے افراد اعمال کی اصلاح میں بھی