خطبات محمود (جلد 17) — Page 424
خطبات محمود ۴۲۴ ۲۴ سال ۱۹۳۶ تم اس مقام پر کھڑے ہو جاؤ کہ دنیا تمہاری نقل کرے (فرموده ۳/ جولائی ۱۹۳۶ ء ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - کئی ہفتے ہوئے ہیں میں اعمال صالحہ کے متعلق مضمون بیان کر رہا تھا کہ ہمارے عقائد میں ہماری جماعت کی کوششیں نہایت بار آور اور کامیاب ثابت ہوئی ہیں۔ہمارے عقائد کی صحت کو ہمارے دشمنوں نے بھی تسلیم کر لیا، کھلے طور پر اپنا لیا اور اختیار کر لیا ہے اس کے مقابلہ میں اعمال کے بارہ میں ہماری جماعت کی کوششیں ایسی بار آور اور کامیاب نہیں ہیں حتی کہ غیر تو غیر خود اپنی جماعت کے لوگ بھی یہ مانتے ہیں کہ اس بارہ میں ہمیں وہ مقام حاصل نہیں کہ جو دنیا کیلئے نمونہ کہلا سکے حالانکہ ارادہ اور نیت اعمال کے متعلق بھی ویسا ہی موجود ہے جیسا کہ عقائد کی درستی کیلئے۔پس جب محرک یکساں طاقت کا موجود ہے تو ایک جگہ ارادہ کا کم سے کم اثر اور دوسری جگہ زیادہ سے زیادہ اثر بتاتا ہے کہ بیرونی مخالفت ایک کی کم اور دوسرے کی زیادہ ہے۔دنیا میں کام کرنے کی دقتیں دو ہی ہیں ایک قوت مؤثرہ کی کمی اور دوسرے قوت متاثرہ کی کمی۔یا تو ناکامی اس لئے ہوتی ہے کہ کام کے پیچھے قوت ارادی اتنی مضبوط نہیں ہوتی جس کے ذریعہ وہ کام ہو سکتا ہے یا پھر قوت ارادی تو ہوتی ہے مگر بیرونی مخالفت اتنی شدید ہوتی ہے کہ اس پر غالب آجاتی ہے۔مثلاً ایک طالب علم ہے وہ ارادہ کرتا ہے کہ سبق یاد کرے مگر ایک اور طالب علم ہے جو سبق یاد کر نے کا ارادہ ہی نہیں کرتا اور جب وہ ارادہ نہیں کرتا تو کوشش بھی نہیں کرتا۔پس ان