خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 396

خطبات محمود ۳۹۶ سال ۱۹۳۶ء جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو ہم نے پکارا اور کہا کہ وہ ہمیں سیدھا راستہ دکھائے مگر اس نے ہمیں سیدھا راستہ نہیں دکھایا حالانکہ وہ تو ہمیں سیدھا راستہ دکھا رہا تھا مگر ہم نے اس کی آواز کو سننے کا موقع ہی پیدا نہیں کیا۔پس میں دیکھتا ہوں کہ اکثر لوگوں کا طریق عمل ہمیشہ ان مؤذنوں کا سال ہوتا ہے جن کا میں نے پہلے ذکر کیا ہے۔میں نے متواتر بتایا ہے کہ ہر چیز اپنے ماحول کے ساتھ ہی ترقی کر سکتی ہے بغیر اس کے نہیں۔تم اچھے سے اچھا گیہوں کا بیج اگر جیٹھ یا ہاڑ میں بود و تو اس سے کھیتی پیدا نہیں ہوگی ، تم عمدہ سے عمدہ کپاس کا بیج اگر اگست اور ستمبر میں بود و تو اس بیج سے کپاس کی فصل نہیں ہوگی ، یا بہتر سے بہتر گنا اگر تم اپریل یا مئی میں بود و تو اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا کیونکہ ہر چیز کیلئے خدا تعالیٰ نے کچھ قانون مقرر فرمائے ہیں اور ان کے ماتحت ہی نتیجہ نکلا کرتا ہے۔میں نے ہمیشہ بتایا ہے اور اب دو سال سے تو متواتر بتاتا چلا آ رہا ہوں کہ خلافت کی غرض و غایت کچھ نہ کچھ ضرور ہونی چاہئے اور جب کوئی شخص خلیفہ کی بیعت کرتا ہے تو اس کی بیعت کے بھی کوئی معنے ہونے چاہئیں۔اگر تم بیعت کے بعد اور میرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دینے کے بعد میری سنتے ہی نہیں اور اپنی ہی کہے چلے جاتے ہو تو ایسی بیعت کا فائدہ ہی کیا ؟ اس صورت میں تو ایسی بیعت کو تہہ کر کے الگ پھینک دینا زیادہ فائدہ مند ہے بہ نسبت اس کے کہ انسان دنیا میں بھی ذلیل ہو اور خدا تعالیٰ کی نظر میں بھی لعنتی بنے۔میں نے متواتر آپ لوگوں کو بتایا ہے کہ ہر کام جو آپ لوگ کر میں عقل کے ماتحت کریں اور ان ہدایات کے ماتحت کریں جو میں آپ لوگوں دیتا آرہا ہوں۔آپ لوگ اس بات کو سمجھیں یا نہ سمجھیں ، اسی طرح دنیا اس بات کو سمجھے یا نہ سمجھے مگر امر واقعہ یہ ہے کہ اس وقت اسلام کی ترقی خدا تعالیٰ نے میرے ساتھ وابستہ کر دی ہے جیسا کہ ہمیشہ وہ اپنے دین کی ترقی خلفاء کے ساتھ وابستہ کیا کرتا ہے۔پس جو میری سُنے گا وہ جیتے گا اور جو میری نہیں سنے گا وہ ہارے گا، جو میرے پیچھے چلے گا خدا تعالیٰ کی رحمت کے دروازے اس پر کھولے جائیں گے اور جو میرے راستہ سے الگ ہو جائے گا خدا تعالیٰ کی رحمت کے دروازے اس پر بند کر دئیے جائیں گے۔ایسا انسان جس کی آنکھوں کے سامنے نمونہ نہ ہو وہ معذور ہوتا ہے مگر جس شخص کے سامنے نمونہ ہو اس کا باوجود نمونہ سامنے ہونے کے صداقت پر مضبوطی سے قائم نہ رہنا بہت بڑا جرم ہوتا ہے۔