خطبات محمود (جلد 17) — Page 397
خطبات محمود ۳۹۷ سال ۱۹۳۶ء خدا تعالیٰ نے خلافت کی باگ میرے ہاتھ میں اس وقت دی جب ہمارے خزانے میں صرف چند آنے کے پیسے تھے غالباً اٹھارہ آنے تھے جو اُس وقت خزانہ میں موجود تھے۔پھر پندرہ بیس ہزار روپیہ قرض تھا اور جماعت کا اٹھانوے فیصدی حصہ دشمنوں کے ساتھ ملا ہوا تھا تب اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ اور میرے ہاتھوں سے تمام جماعت کو اکٹھا کیا ، اس کی مالی پریشانیوں کو دور کیا اور جماعت آگے سے بھی زیادہ مضبوطی کے ساتھ چلنے لگی۔پھر مسائل کی بحث شروع ہوئی اگر اہلِ پیغام اس جنگ میں جیتے تو کیا نتیجہ نکلتا۔احمدیت بالکل مٹ جاتی اور روحانی دنیا پر ایک موت آجاتی مگر کیا اس جنگ کے ہر حصہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے فتح نہیں دی؟ کيا لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمُ اے کا نظارہ اس نے نہیں دکھایا ؟ پھر تبلیغ دین اور اشاعتِ احمدیت کی جنگ میں اس نے میری پالیسی کو کامیاب نہیں کیا؟ سلسلہ کے نظام کے بارہ میں میری سکیم کو غیر معمولی برکت نہیں بخشی ؟ حتی کہ دشمن بھی اس پر رشک کرتے ہیں اور اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، پھر نیم سیاسی امور میں ہماری شرکت کے سوال کو لو کیا اس میدان میں اس نے میری باتوں کو درست ثابت نہیں کیا ؟ جب جنگِ عظیم کے بعد ادھر خلافت کی شورش پیدا ہوئی ادھر کانگرس کی شورش نے ملک میں ایک آگ لگا دی تو یہ ایک بہت بڑا ابتلاء تھا اور ہندوستان کے عظمند سے عقلمند انسان بھی اس شورش میں بہہ گئے تھے اُس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے جو راستہ مجھے بتایا وہی ٹھیک اور درست نکلا اور آخر لوگ پچھتا کر اسی جگہ پر واپس آگئے جس جگہ میں لانا چاہتا تھا۔پھر ملکانوں میں تبلیغ کا زمانہ آیا خلافت کے فساد کے بعد نئے رنگ میں خلافت کے مٹنے کا جوش پیدا ہوا ، عرب میں اختلافات کا سلسلہ شروع ہوا ، ان میں سے ہر معاملہ میں خدا تعالیٰ نے میری رائے کو صحیح ثابت کیا اور دوسروں کی رائے غلط ثابت ہوئی۔ایک وہ وقت تھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے زمانہ میں پیغامیوں کے اس کہنے پر کہ ایک بچہ کے ذریعہ جماعت کو تباہ کیا جا رہا ہے ، مسجد میں بیٹھے ہوئے احمدی گریہ و بکا کر رہے تھے اور رور ہے تھے کہ واقعہ میں جماعت کو ایک بچہ کے ذریعہ تباہ کیا جا رہا ہے مگر آج وہی بچہ ہے جس کے سامنے وہی لوگ اس کی بیعت میں داخل ہو کر بیٹھے ہوئے ہیں کیا یہ سب کچھ نشان اور معجزہ نہیں؟ پس اگر خلافت کے کوئی معنے ہیں تو آپ لوگوں کو وہی طریق اختیار کرنا چاہئے جو میں