خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 390

خطبات محمود ۳۹۰ سال ۱۹۳۶ء کا پانی زمینوں کو سر سبز و شاداب کرتا ہے۔بارشیں کس قدر پانی لاتی ہیں مگر کس طرح بکھر بکھر کر ان کی کا بہت سا پانی ضائع ہو جاتا ہے کیونکہ انسان جس کے فائدہ کیلئے وہ پانی اتارا گیا تھا اسے محفوظ نہیں کرتا۔اس کے مقابلہ میں نہروں میں پانی بارشوں کے پانی کے مقابلہ میں کس قدر کم ہوتا ہے مگر نہر کا پانی کس قدر زیادہ فائدہ پہنچاتا ہے۔پس جب تک حد بندی نہ ہو اور جب تک بعض پابندیاں عائد نہ کی جائیں اس وقت تک روحانی پانی بھی بکھرا رہتا ہے لیکن جب تک ایک حد بندی کے ماتحت اس سے کام لیا جاتا ہے تو وہ کی عظیم الشان تغیر پیدا کر دیتا ہے۔یہ وہ پہلو ہے جس پر ہماری جماعت کو خصوصیت سے غور کرنا چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ ہماری جماعت کی اصلاح کے کیا ذرائع ہیں۔پھر وہ ذرائع جو ان کے ذہن میں آئیں یا وہ ذرائع جو میں آگے چل کر بیان کروں گا اُن کو اختیار کرنا چاہئے خواہ ان ذرائع کے اختیار کرنے میں انہیں کتنی بڑی قربانی کرنی پڑے۔یورپ میں ایک مشہور لیکچرار تھا اسے عادت تھی کہ جب وہ لیکچر دیتا کند ھے اوپر نیچے کرتا رہتا۔لوگ اسے کہتے کہ تمہارا لیکچر تو بڑا اچھا ہوتا ہے لیکن جب تم کند ھے اوپر نیچے کرتے ہو تو لوگ ا تمہیں دیکھ دیکھ کر ہنسنے لگ جاتے ہیں۔وہ ہر دفعہ اقرار کرتا کہ آئندہ لیکچر میں یہ نقص نہیں ہو گا مگر جب پھر لیکچر دینے لگتا تو پھر اس کے کندھے ہلنے لگتے۔آخر اس نے سمجھا کہ یہ نقص اس طرح دور نہیں ہوگا بلکہ سختی سے یہ نقص دور کرنا پڑے گا۔چنانچہ اس نے گھر میں مشق شروع کی وہ گھر پر لیکچر دیتا تو دو تلوار میں عین اپنے کندھوں کے اوپر لٹکا لیتا تا تقریر کے جوش میں جب اُس کے کندھے ہیں تو تلواریں اُسے لگیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوتا جب وہ جوش سے کندھے ہلا تا تو تلوار غرپ - اُس کے کندھے میں گھس جاتی اور وہ رک جاتا۔پھر تقریر کرتے ہوئے کندھے ملتے تو پھر تلوار لگتی نتیجہ یہ ہوا کہ چند دن کے بعد ہی اس کی عادت جاتی رہی۔اسی طرح ہمیں بھی ایسے طریق ایجاد کرنے پڑیں گے جن کے نتیجہ میں لوگ اس بات پر مجبور ہو جائیں کہ نیک اعمال اختیار کریں۔جب تک اس تعہد اور اس ارادہ کے ساتھ ہم اصلاحی تدابیر اختیار نہیں کرتے چاہے ہزار سال گزر جائیں ہم اسی جگہ بیٹھے رہیں گے جس جگہ اب ہیں۔ایک نقص کو دور کریں گے تو دوسرا نقص آ جائے گا، دوسرے نقص کو ہٹائیں گے تو تیسرا نقص آ جائے گا، تیسرے نقص کو ہٹائیں گے تو چوتھا