خطبات محمود (جلد 17) — Page 389
خطبات محمود ۳۸۹ سال ۱۹۳۶ء ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ اگر ہم اعمال کی اصلاح کرنا چاہیں تو اس طرف توجہ کریں۔صرف یہ کہ دینے سے کہ ہمیں اپنی اصلاح کرنی چاہئے اصلاح نہیں ہوسکتی جب تک ہم وہ کوشش نہ کریں اور ان ذرائع کو اختیار نہ کریں جن کے نتیجہ میں اصلاح ممکن ہے۔ورنہ اس کے بغیر ہماری وہی حالت ہوگی جو ایک برہمن کی مثال میں بیان کی جاتی ہے۔ہندؤوں میں صبح کے وقت دریا پر نہانا نہایت متبرک سمجھا جاتا ہے اور ہندؤوں میں سے برہمن تو اسے بہت ہی ضروری خیال کرتے ہیں۔کہتے ہیں لاہور میں کوئی برہمن صبح کو اشنان کرنے چلا سخت سردی کے دن تھے۔ہانپتا کانپتا دریا کی طرف جارہا تھا کہ راستہ میں ایک اور برہمن اسے مل گیا جو اُس کا واقف تھا اور جو دریا سے واپس آ رہا تھا۔وہ پوچھنے لگا بتاؤ غسل کیسے کیا آج تو سخت سردی ہے۔وہ برہمن کہنے لگا میں تو دریا پر گیا مگر مجھے نہانے کی جرات نہیں ہوئی۔یہ پوچھنے لگا پھر کیا کیا ؟ اس نے کہا میں نے ایک کنکر اُٹھا کر دریا میں پھینک دیا اور کہا ” تو راشنان سومور اشنان۔تیرا نہانا سو میرا نہانا ہو گیا اور یہ کہہ کر میں واپس آ گیا۔یہ کہنے لگا اچھا پھر ” تو را شنان سوموراشنان چلو پھر تیرا نہانا میرا نہانا ہو گیا اور وہیں سے اس کے ساتھ لوٹ آیا۔تو اس وقت تک ہماری کوششیں اعمال کے میدان میں ایسی ہی کی ہیں کہ ” تو راشنان سوموراشنان۔ہم ابھی ان ذرائع کو اختیار کرنے کیلئے آمادہ ہی نہیں ہوئے جو ایسے زمانہ میں جو مذہب کے ساتھ حکومت نہ ہوا ختیار کرنے ضروری ہوتے ہیں اور جن ذرائع کو اختیار کر کے ہم اپنے اعمال کو ایسا محفوظ کر سکتے ہیں کہ ہمارے دل کی لالچیں اور حرصیں ، ہمارے غصے اور ہماری نفرتیں ، ہماری آنکھوں کی نظر جو کسی کو پسند کرتی ہے اور کسی کو ناپسند ، ہمارے کانوں کی جس جو کسی آواز کو اچھا سمجھتی ہے اور کسی کو بُرا ، ہمارے رزق کی وسعت یا تنگی اور ہماری عزتوں کی زیادتی یا کمی ہمارے راستہ میں حائل نہیں ہو سکتی اور ہم تمام خطرات سے محفوظ رہ کر اسی طرح عملی اصلاح کر سکتے ہیں جس طرح عقائد کی اصلاح میں ہم نے کامیابی حاصل کی ہے مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ ہماری جماعت مختلف قسم کی قربانیوں کیلئے تیار رہے۔جب تک ہماری جماعت اپنے آپ کو اسی طرح محفوظ نہیں کر لیتی جس طرح نہر کے دو کنارے پانی کو لئے چلے جاتے ہیں اُس وقت تک اصلاح کی کامیابی نہیں ہوسکتی۔وہ پانی جسے میدان میں بکھیر دیا جائے کبھی وہ کام نہیں دے سکتا جو نہر کا پانی کام دیتا ہے۔بکھرا ہوا پانی زمین میں بے فائدہ جذب ہو جاتا ہے مگر نہر