خطبات محمود (جلد 17) — Page 364
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۳۵۵ سال ۱۹۳۶ء ہیں اور صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم آپ کو روکے ہوئے ہے۔ ۵۔ یہ کہ یہ تغیر در حقیقت پنجاب گورنمنٹ کے بعض افسروں کے ناجائز سلوک کی وجہ سے پیدا ہوا ہے یعنی کسی حقیقت پر مبنی نہیں ہے بلکہ اس کا موجب غصہ ہے ۔ ۔ یہ کہ میرے نزدیک یہ طریق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے خلاف ہے اس لئے مجھے اجازت دی جائے کہ اس بارہ میں اختلاف رکھ سکوں گوا سے ظاہر کر کے فساد کا موجب نہ بنوں گا ۔ یہ چھ باتیں ہیں جو ان کے خط کا خلاصہ کہی جاسکتی ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں ممکن ہے بعض اور دوستوں کے دلوں میں بھی یہ خیال پیدا ہور ہے ہوں اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس خط کا نے جواب خط کے ذریعہ دینے کی بجائے خطبہ میں دے دوں تا دوسروں کیلئے بھی میرے نقطۂ نگاہ کو واضح کر دینے کا موجب ہو ۔ پہلی بات یہ ہے کہ پنڈت جواہر لال صاحب نہرو کے استقبال میں کیوں حصہ لیا گیا۔ اس کے متعلق سب سے پہلے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آل انڈیا نیشنل لیگ ایک سیاسی انجمن ہے اور اس کے کاموں کی بنیا د سیاست پر ہے اور آل انڈیا نیشنل لیگ کا ہر فعل ضروری نہیں کہ جماعت احمد یہ کے اقدام کے پوری طرح مطابق ہو۔ میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ نیشنل لیگ سلسلہ کی روایات اور تعلیم کے خلاف چل سکتی ہے بلکہ یہ ہے کہ ہو سکتا ہے بلکہ ہونا چاہئے کہ جماعت احمد یہ بحیثیت جماعت جن کاموں میں دلچسپی نہ لینا چاہتی ہو لیگ ان میں دلچسپی رکھے کیونکہ جماعت احمد یہ بحیثیت جماعت مذہبی ہے اور اس کی دلچسپی بحیثیت مذہبی جماعت مذہبی کاموں سے ہی ہو سکتی ہے مگر آل انڈیا نیشنل لیگ ایک سیاسی جماعت ہے اور اس کی دلچسپی سیاسی کاموں سے ہی ہو سکتی ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ سلسلہ کی روایات اور اصول سے نیشنل لیگ دور جا سکتی ہے بلکہ صرف یہ بتانا ہے کہ دونوں کا میدانِ عمل جُدا ہے اور اس لئے دائرہ عمل ضروری طور پر جدا جدا ہوگا اور طریق عمل بھی ۔ ہر فرد جو نیشنل لیگ کا ممبر ہے جیسا کہ میں نے اس کی بنیادی اجازت دیتے ا ہوئے کہا تھا جب نیشنل لیگ کی ہدایت کے ماتحت اس کے ممبر کام کریں گے تو ان کے فعل کی ذمہ داری نیشنل لیگ پر ہی ہوگی اور سوائے اس کے کہ ان کا قدم سلسلہ کی روایات اور اصول کے