خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 352

خطبات محمود ۳۵۲ سال ۱۹۳۶ء کو تکلیفیں دیتا اور اس پر ظلم و ستم کرتا ہے لیکن یہ اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتا اتفاقاً اس کی سے اعلیٰ افسر سے اسے ملاقات کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ پہلے ہی اس فکر میں حیران ہوتا ہے کہ میں اپنے دشمن سے کس طرح نجات پاؤں وہ ملاقات کے وقت کیا دیکھتا ہے کہ اتفاقاً اعلیٰ افسر نے کوئی ایسی بات کہی جو اُس چھوٹے افسر کے خلاف ہے تب وہ فوراً خیال کرتا ہے کہ اگر میں بھی اس افسر کے چند عیوب اس کے پاس بیان کر دوں تو یہ اس پر اور ناراض ہو جائے گا۔چنانچہ یہ دیکھتے ہی کہ وہ بڑا افسر چھوٹے افسر کے خلاف ہے اس چھوٹے افسر کے چند اور عیوب بھی بیان کی کر دیتا ہے اور اس طرح اس کی غیبت کرتا ہے اور دل میں کہتا ہے کہ اگر میں غیبت نہ کروں تو میری جان اور مال کا خطرہ دور نہ ہوگا۔اس خیال کے آنے پر وہ غیبت کا ارتکاب کر لیتا ہے اور بسا اوقات اس کا مقصد سے حاصل ہو جاتا ہے مگر تو حید تو اس طرح اس کے فائدہ سے نہیں ٹکراتی۔پس غیبت سے بچنے پر وہ قادر نہیں ہوسکتا اور تو حید کا دعویٰ کرنے پر قادر ہو جاتا ہے۔یہ صرف دنیوی لحاظ سے میں بیان کر رہا ہوں ورنہ دینی لحاظ سے تو مؤمن کا خدا تعالیٰ خود محافظ ہوتا ہے اور اسے دشمنوں کے شرور سے محفوظ رکھتا ہے۔غرض دُنیوی لحاظ سے انسان بعض دفعہ عاجلی فائدہ کیلئے بدیوں کا ارتکاب کر لیتا ہے کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اس کا عقیدہ اسے ان امور میں کچھ فائدہ نہیں پہنچا تا لیکن اس کا عمل اسے فائدہ پہنچاتا ہے۔مثلاً وہ ایک ڈپٹی کمشنر کے پاس جائے اور کہے کہ تھانیدار مجھ پر ظلم کرتا ہے لَا إِلهَ إِلَّا الله۔تو اس امر کا ڈپٹی کمشنر پر کوئی بھی اثر نہیں ہوتا ہے لیکن ڈپٹی کمشنر کو متاثر کرنے کیلئے اگر وہ یہ غیبت کرے کہ ہمارے ہاں کا تھانیدار آپ کو بہت یر ابھلا کہتا رہتا ہے تو اس پر ڈپٹی کمشنر ضرور تحقیق کرے گا اور وہ واقعہ میں درست پا کر تھانیدار کو سزا دے گا اور اس کا دشمن ہو جائے گا اس طرح اس کی آرزو پوری ہو جائے گی۔تو بسا اوقات بدعمل کا ترک اس لئے مشکل ہوتا ہے کہ انسان کا عاجل فائدہ اس سے وابستہ ہو جاتا ہے اور بسا اوقات نیکیوں کو انسان اس وجہ سے ترک کر دیتا ہے کہ انسان کا عاجل نقصان ان سے وابستہ ہو جاتا ہے۔مثلاً جب مالی قربانی کا وقت آتا ہے تو بعض انسان خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم نے چندہ دے دیا تو ہم کپڑے کہاں سے بنوائیں گے غرض نیکیاں اور بدیاں عاجل امور سے تعلق رکھتی ہیں اور عقائد کا آجل سے تعلق ہوتا ہے اور چونکہ انسان طبعی طور پر اپنے قریب کی چیزوں سے متاثر ہوتا ہے بعید کی