خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 320

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۳۱۱ سال ۱۹۳۶ء کہ اس وقت سورج نصف النہار پر ہے اسی طرح فتح یقینی ہوگی مگر اللہ تعالیٰ کی برکتیں کام سے نازل ہوتی ہیں۔ پہلے اُس کے بن جاؤ ، اُسے اپنا رب بنالو، پھر اُس کی طرف سے تمہیں وحی ہوگی کہ لَنُهْلِكَنَّ الظَّلِمِينَ یعنی بہت اچھا ہم ان کو مٹا دیں گے۔ حضرت نظام الدین اولیاء کا ایک واقعہ ہے جو میں نے کئی بار سنایا ہے۔ وہ بادشاہ کے دربار میں نہیں جایا کرتے تھے مخالفوں نے بادشاہ کو اُکسایا کہ یہ اپنی حکومت بنانا چاہتے ہیں ۔ بادشاہ ناراض ہو گیا وہ بہار کی طرف جا رہا تھا اِس لئے اُس نے کہا کہ واپس آکر سزا دیں گے۔ چنانچہ جب وہ واپس آ رہا تھا آپ کے مریدوں نے عرض کیا کہ حضور ! بادشاہ آیا ہی چاہتا ہے کوئی صورت کرنی چاہئے جس سے وہ سزا نہ دے مگر آپ نے فرمایا ہنوز دلی دور است ۔ وہ اور قریب آیا مریدوں نے پھر توجہ دلائی مگر آپ نے پھر وہی جواب دیا حتی کہ بادشاہ شہر کے باہر آ موجود ہوا ۔ اسلامی طریق یہی ہے اور رسول کریم ﷺ ایسا ہی کیا کرتے تھے کہ رات کو شہر سے باہر ہی قیام کر کے صبح شہر میں داخل ہوتے اسی کے مطابق بادشاہ نے بھی رات شہر سے باہر قیام کیا۔ مرید اور بھی پریشان تھے انہوں نے پھر جا کر عرض کیا کہ کوئی تدبیر کی جائے مگر آپ نے پھر فرمایا ” ہنوز دتی دور است ۔ رات جشن ہوا بادشاہ کے لڑکے اور دوسرے امراء نے دعوتیں کیں اور ہجوم اتنا ہو گیا کہ چھت گر پڑی اور بادشاہ دب کر مر گیا ۔ پس اگر تم خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر لو ، سچی قربانیوں کیلئے تیار ہو جاؤ اور ان باتوں پر غور کرو جو میں بتاتا ہوں اور جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو ضرور کامیاب ہوکر رہو گے۔ زمانہ تمہیں نافرمانی کی سزا یا اتباع کے نتیجہ میں کامیابی دے کر بتا دے گا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور ایک بھی میری نہیں لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ ضروری ہے کہ جو سلوک پہلے انبیاء کی جماعتوں سے ہوا وہ تم سے ہو اور جب تم امتحانوں میں پاس ہو جاؤ گے تو تمہاری فتح بھی یقینی ہوگی ۔ اگر اپنی اصلاح کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکات نازل ہوں گی اور اگر سُستی کرو گے تو انجام جتنا بھیانک ہے وہ میں نے بتا دیا ہے۔ ابھی دشمن جو کہتا ہے ڈرتے ڈرتے کہتا ہے کہ شاید حکومت پکڑ نہ لے مگر پھر بھی وہ کہہ چکا ہے کہ احمدیوں کو ملک سے نکال دیا جائے گا گو حکومت کا رویہ احرار کو پکڑنے والا نہیں ۔ بار بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دی جاتی ہیں خصوصاً اخبار مجاہد کی