خطبات محمود (جلد 17) — Page 288
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۷۹ سال ۱۹۳۶ء بیویوں کی طرح مانگنے پر تیار ہو جائے گویا یہ خبر پہلی خبر کا تتمہ ہے۔ ان اخباروں کے وہ خریدار جو اتنے احمق اور بیوقوف ہیں کہ جو بات ان کے سامنے بیان کی جائے خواہ وہ کتنی ہی جھوٹ اور خلاف واقعہ ہوا سے ماننے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں ان کیلئے کچھ تعجب نہیں کہ اخبار والے آئندہ یہ خبر بھی لکھ دیں کہ چونکہ بیویوں کے ذریعہ مانگنے پر بھی یہ معاملہ ختم نہیں ہوا اس لئے اب احمد یوں کے خلیفہ نے اپنے مرید لے کر قادیان کے تمام احراریوں کے گھروں پر حملہ کر دیا ہے اور تمام مال و متاع لوٹ کر گھروں سمیت انہیں صفحہ دنیا سے غائب کر دیا ہے۔ اس کے چند دن بعد یہ خبر دے دیں کہ امرتسر کے فلاں فلاں محلے غائب ہو گئے ہیں اور انہیں احمدیوں کا خلیفہ اُٹھا کر قادیان لے گیا ہے۔ پھر لکھ دیں کہ لاہور سب کا سب غائب ہو گیا ہے اور سنا گیا ہے کہ قادیانی جماعت کا خلیفہ اُسے اپنی جیب میں ڈال کر لے گیا ہے۔ اور اس کے بعد شائع کر دیں کہ فلاں صوبہ بالکل مفقود ہے اور شبہ کیا جاتا ہے کہ وہ صوبہ بھی احمدیوں کے خلیفہ نے اپنے مریدوں کی معرفت قادیان اُٹھوا منگوایا ہے۔ احرار نے اپنے چیلوں کو اس قدر احمق بنادیا ہے کہ کچھ تعجب نہیں ان کے چیلے ایسی خرافات کو بھی تسلیم کر لیں ۔ بے شک پہلے بھی انبیاء علیہم السلام کے زمانہ میں شیطان نے جھوٹ بولا ہے مگر تاریخ سے معلوم نہیں ہوتا کہ بھی اتنا نڈر ہو کر شیطان نے جھوٹ بولا ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ شیطان اب یہ سمجھتا ہے کہ احرار کے ذریعہ سے شیطانوں کی ایک وسیع جماعت پیدا ہو گئی ہے اس لئے اب میں جو چاہوں کہوں وہ اسے درست تسلیم کر لیں گے ۔ پس چونکہ شیطان کے نزدیک اب ان مخالفوں میں کوئی آدمی نہیں رہا سب شیطان ہو گئے ہیں اسی لئے وہ اس قد ر کھلا - جھوٹ بولنے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور اخباروں میں چھا پنا شروع کر دیتے ہیں ۔ ہیں۔ پھر انہی دنوں ہماری مجلس شوری کی کارروائیوں کا ان اخبارات میں ذکر چھپتا رہا ہے مگر جو دوست مجلس میں شامل تھے وہ اگر ان باتوں کو سنیں تو حیران ہو جائیں کہ یہ کسی مجلس شوری کا ذکر ہو رہا ہے وہ تو یہی سمجھیں کہ یہ کوئی نرالی مجلس شوری ہے جس مجلس شوری میں ہم شامل تھے اس کا یہ ذکر نہیں ۔ مثلاً ان کے نزدیک اس مجلس شوری میں میں نے کئی گھنٹے اپنی تقریر میں میر قاسم علی صاحب کی خبر لی حالانکہ مجلس شوری میں اُن کا نام تک نہیں آیا۔ اسی طرح بعض واقعات اس میں بیان کئے گئے ہیں کہ بیرونی جماعتوں کو اس اس رنگ میں ڈانٹ پڑی حالانکہ مجلس شوری میں اس