خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 248

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۳۹ سال ۱۹۳۶ء اور پس حکومت اس کا فیصلہ دو طرح کر سکتی ہے ایک تو اس فیصلہ کو ضبط کرلے اور دوسرے جماعت احمد یہ کو اجازت دے کہ اس کا جواب کتاب کی صورت میں لکھ دیا جائے جس میں واقعات واقعات کی صحیح صورت پر بحث کر کے جواب دیا جائے اور اس میں عدالت کی شخصیت پر بحث نہ ہو پھر جس جگہ بھی اعتراض ہوگا وہاں کے احمدی اس کتاب میں سے دیکھ کر جواب د دیکھ کر جواب دے دیں گے۔ اس کے بعد میں نیشنل لیگ والوں کو حکم دے دوں گا کہ وہ آئندہ اس بارہ میں کچھ نہ کرے۔ یہ دو تجویزیں میں نے بہت غور سے سوچی ہیں اور ان پر راضی ہو جانے میں بھی میں نے بہت قربانی کی ہے اور حکومت اگر میری طرح قربانی نہیں بلکہ صرف انصاف کرنے کیلئے تیار ہو تو یہ قضیہ نامرضیہ جو حکومت ! ہمارے دونوں کیلئے مشکلات کا موجب ہو سکتا ہے مٹ جائے گا۔ لیکن اگر حکومت ان دونوں تجویزوں کو نہ مانے تو پھر وہ اپنی طرف سے کوئی تجویز بتادے میں اس پر غور کروں گا لیکن اس کا فرض ہے کہ وہ یا تو میری تجویز مان لے اور یا پھر اپنی طرف سے کوئی ایسی تجویز بتائے جس سے اس فیصلہ کا ضرر دور ہو سکے اور اگر اس کی تجویز معقول ہوئی تو میں اس کو ضرور مان لوں گا۔ لیکن اگر کوئی صورت نہ ہوا اور حکومت نہ تو خود کوئی تجویز بتائے اور میری پیش کردہ تجویز کے متعلق بھی کہے کہ تم تو رعایا کے ایک فرد ہو تم ایسی تجویزیں پیش کرنے والے کون ہو تو پھر اس کا کوئی علاج میرے پاس نہیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہی ہے۔ میرا صرف یہ کام تھا کہ ایک اچھے شہری کی حیثیت سے امن کی بہتر صورت پیش کردوں اور ساتھ یہ بھی کہہ دوں کہ اگر حکومت کوئی اور تجویز بتا دے تو میں اپنی بات چھوڑ دوں گا لیکن اگر حکومت دونوں میں سے کوئی بات بھی نہ کرے تو پھر میں یہی کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی ایسی ہے اور ملک کا امن برباد ہونے والا ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے فساد مقدر ہو تو ادھر رعایا میں سے بعض لوگوں کے دماغ میں نقص پیدا ہو جاتا ہے اور ادھر حکومت اپنے رویہ کو بدلنے کیلئے تیار نہیں ہوتی اس لئے صرف یہی تدبیر باقی رہ جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکیں اور کہیں کہ ہم تو امن چاہتے ہیں مگر جن رستوں کو کھولنا ہمارے اختیار میں نہیں ، انہیں تو خود ہی کھول دے اور ہمیں توفیق عطا فرما کہ ہم سلسلہ کی روایات کو بھی قائم رکھ سکیں ، قانون کا احترام بھی نہ چھوڑیں اور اس خدا کے پیارے کی عزت بھی قائم کر سکیں جس کی عزت قائم کرنے کیلئے ہم میں سے ہر ایک اپنی اور اپنے تمام