خطبات محمود (جلد 17) — Page 249
خطبات محمود ۲۴۹ سال ۱۹۳۶ وقت آجاتا ہے اور عشاء کی نماز پڑھ کر اور نوافل سے فارغ ہو کر آپ سو جاتے اور آدھی رات کے بعد پھر اٹھ بیٹھتے اور اسی کام کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔غرض اس زندگی میں ایک منٹ بھی تو ایسا ہی نہیں آتا جسے ہمارے ہاں گئیں ہانکنے کیلئے ضروری سمجھا جاتا ہے اور نہایت قیمتی وقت محض بکو اس کی میں ضائع کر دیا جاتا ہے کہ فلاں کا یہ حال ہے اور فلاں کا یہ۔اور اصل کام کی طرف توجہ نہیں کی جاتی اسی وقت کے اندر رسول کریم ﷺ اپنی بیویوں کے حقوق بھی ادا کر تے تھے اور اتنی توجہ سے ہے ادا کرتے تھے کہ ہر بیوی سمجھتی تھی کہ سب سے زیادہ میں ہی آپ کی توجہ کے نیچے ہوں۔پھر بیوی کی بھی ایک نہیں آپ کی نو بیویاں تھیں اور نو بیویوں کے ہوتے ہوئے ایک بیوی بھی یہ خیال نہیں کرتی ہے تھی کہ میری طرف توجہ نہیں کی جاتی۔چنانچہ عصر کی نماز کے بعد رسول کریم ﷺ کا معمول تھا کہ آپ ساری بیویوں کے گھروں میں ایک چکر لگاتے اور ان سے ان کی ضرورتیں دریافت فرماتے۔پھر بعض دفعہ خانگی کاموں میں آپ ان کی مدد بھی فرما دیتے اس کام کے علاوہ جو میں نے بیان کئے ہی ہیں اور بھی بیسیوں کام ہیں جو رسول کریم ﷺ سرانجام دیتے ہیں۔پس آپ کی زندگی کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جو فارغ ہو مگر آپ بھی اسی ملیر یا والے ملک کے رہنے والے تھے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہم دیکھتے ہیں جو آپ کے ظل تھے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کام کی یہ حالت ہوتی کہ ہم جب سوتے تو آپ کو کام کرتے دیکھتے اور جب آنکھ کھلتی تب بھی آپ کو کام کرتے دیکھتے اور باوجود اتنی محنت اور مشقت برداشت کرنے کے جو دوست آپ کی کتابوں کے پروف پڑھنے میں شامل ہوتے آپ ان کے کام کی اس قدر قدر فرماتے کہ اگر عشاء کے وقت بھی کوئی آواز دیتا کہ حضور میں پروف لے آیا ہوں تو آپ چار پائی سے اُٹھ کر دروازہ تک جاتے تھے ہوئے راستہ میں کئی دفعہ فرماتے جزاک اللہ۔آپ کو بڑی تکلیف ہوئی جزاک اللہ۔آپ کو بڑی تکلیف ہوئی۔حالانکہ وہ کام اس کام کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہوتا تھا جو آپ خود کرتے تھے۔غرض اس قدر کام کرنے کی عادت ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں دیکھی ہے کہ اس کی کی وجہ سے ہمیں حیرت آتی۔بیماری کی وجہ سے بعض دفعہ آپ کو ٹہلنا پڑتا مگر اس حالت میں بھی ہے آپ کام کرتے جاتے۔سیر کیلئے تشریف لے جاتے تو راستہ میں بھی مسائل کا ذکر کرتے اور سوالات کے جوابات دیتے حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اس ملیر یاز دہ علاقہ کے تھے بلکہ