خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 247

خطبات محمود ۲۴۷ سال ۱۹۳۶ء نہیں سمجھ سکتا کہ اس سے کس طرح عہدہ برآ ہوں۔غرض ایک ایک کام انسان کی کمر توڑ دینے کیلئے کافی ہے مگر محمد ﷺ کی زندگی میں یہ سارے کام بلکہ ان کے علاوہ اور بھی بیسیوں کام ہمیں ایک جگہ اکٹھے نظر آتے ہیں۔محمد ﷺے معلم بھی تھے کیونکہ آپ لوگوں کو دین پڑھاتے اور رات دن کی پڑھاتے ، محمد ﷺہ جی بھی تھے کیونکہ آپ لوگوں کے جھگڑوں کا تصفیہ کرتے ، محمد ﷺ پریذیڈنٹ میونسپل کمیٹی کے فرائض بھی سرانجام دیتے کیونکہ بلدیہ کے حقوق کی نگرانی وصفائی کی نگہداشت اور چیزوں کے بھاؤ کا خیال رکھنا یہ سب کام آپ کرتے ، پھر رسول کریمہ مفتن بھی تھے کیونکہ آپ کی قرآن کریم کے احکام کے ماتحت لوگوں کو قانون کی تفصیلات بتاتے اور ان کا نفاذ کرتے ، اسی کی طرح رسول کریم نے جرنیل بھی تھے کیونکہ آپ لڑائیوں میں شامل ہوتے اور مسلمانوں کی جنگ میں راہبری فرماتے ، رسول کریم ﷺ بادشاہ بھی تھے کیونکہ آپ تمام قسم کے ملکی اور قومی انتظامات کا کی خیال رکھتے ، پھر اس کے علاوہ اور بھی بیسیوں کام تھے جو رسول کریم ﷺ کے سپرد تھے مگر آپ یہ سب کام کرتے اور اسی علاقہ میں رہ کر کرتے جس میں رہنے والوں کی ستی کی دلیل بعض ڈاکٹر یہ پیش کرتے ہیں کہ یہ ملیر یاز دہ علاقہ ہے۔آخر آپ بھی تو ایشیاء کے ہی رہنے والے تھے یورپ کے رہنے والے تو نہ تھے۔اس میں شبہ نہیں کہ ہمیں اپنی صحت کی درستی کا خیال رکھنا چاہئے اور ملیر یا کو اس بات کا موقع نہیں دینا چاہئے کہ وہ ہماری تندرستی بر باد کرے مگر ملیر یا بھی تو بعض کمزوریوں کی وجہ سے ہی آتا ہے یا روحانی کمزوریاں ملیریا کا شکار بنادیتی ہیں یا جسمانی ستیاں ملیریا کا شکار بنادیتی ہیں یا امنگوں کی کمی ملیریا کا شکار بنادیتی ہے۔دنیا میں امنگ بھی بہت حد تک بیماریوں کی الله کا مقابلہ کرتی ہے۔بے شک بداحتیاطی اور بد پرہیزی بھی بیماری لانے کا باعث بنتی ہے مگر امنگیں بیماری کو دبا لیتی ہیں لیکن وہ جو پہلے ہی اپنے ہتھیار ڈال چکا ہو اور کہے کہ ”آ بیل مجھے مار “ اور ی بیماریوں کے مقابلہ کی تاب اپنے اندر نہ رکھتا ہو اس پر بیماری بہت جلد غلبہ پالیتی ہے۔لیکن وہ جو اپنی امنگوں کو زندہ رکھتا، اپنی قوتِ ارادی کو مضبوط کرتا اور اپنے حوصلہ کو بلند رکھتا ہے بیماری اس پر غلبہ نہیں پاسکتی کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے سوا اور کسی کی حکومت تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔اگر بیماری اس پر حکومت کرنا چاہے تو وہ اس کی حکومت سے بھی انکار کر دیتا ہے۔پس میں تسلیم کرتا ہوں کہ بیماری کا علاج ہونا چاہئے مگر میں یہ ہرگز تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں کہ یہ ست اور نکتا بنانے کا