خطبات محمود (جلد 17) — Page 223
خطبات محمود ۲۲۳ سال ۱۹۳۶ کرایا جاتا۔اور اگر وہ ایسا رویہ اختیار کرتی جس کے نتیجہ میں وقت ضائع ہوتا ہو تو اس سے کہہ دیا ت جا تا کہ آپ چونکہ دیر کرتے جاتے ہیں اس لئے ہم خود اس معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں آپ کی اب کچھ کریں یا نہ کریں۔میری یہ بھی رائے ہے کہ نیشنل لیگ نے حکومت سے گفت و شنید کرنے میں بلا وجہ سستی سے کام لیا ہے۔مجھے سخت افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے ذمہ دار لوگ اس ذمہ داری کو پوری طرح کی نہیں سمجھتے جو ان پر ہے۔غالباً نو ماہ یا شاید سال کا عرصہ ہی ہو چکا ہے کہ میں نے صدرانجمن احمد یہ کو توجہ دلائی تھی کہ وہ حکومت سے تصفیہ کرے کہ کیا وہ تحقیقاتی کمیشن کے ذریعہ موجودہ شورش کے کی ایام کے واقعات میں ہماری، بعض افسروں کی اور احرار کی ذمہ داری کا فیصلہ کرنے کی طرف مائل کی ہے یا نہیں اور اگر وہ مائل نہ ہو تو پھر ایسے طریق اختیار کئے جائیں جو قانونی اور شرعی حدود کے اندر ہوں اور جن سے سلسلہ کے وقار کو قائم کیا جاسکے۔لیکن ابھی وہ مرحلہ گورنمنٹ آف انڈیا تک پہنچا کچھ ہے حالانکہ اس حد تک زیادہ سے زیادہ چار مہینہ میں پہنچ جانا چاہئے تھا۔پہلے تو کئی ہفتے چھوٹے چھوٹے ڈرافٹ کرنے میں لگ گئے ، پھر کئی ماہ جواب کا انتظار کیا جاتا رہا حالانکہ چاہئے یہ تھا کہ دو کی۔ہفتہ کے بعد ریمائنڈر دے دیا جاتا اور پھر دو ہفتہ کے بعد بھی اگر جواب نہ ملتا تو سمجھ لیا جاتا کہ جواب نہیں آئے گا اور دوسرا قدم اٹھایا جاتا۔اب مرحلہ وزیر ہند کا ہے اور اس میں بھی بلا وجہ دیری ہورہی ہے۔یہ ایک سچائی ہے جسے زمیندار بھی جانتے ہیں کہ لوہا گرم ہی کو ٹا جا سکتا ہے۔جس کی صلاح لو ہا کوٹنے کی ہو اور وہ اُس کے ٹھنڈا ہونے کا انتظار کرے اسے کوئی عظمند نہیں کہہ سکتا یہ عام قاعدہ ہے کہ جب کسی شکوہ پر لمبا عرصہ گزر جائے تو بالا افسر خیال کر لیتے ہیں کہ لوگوں کا غصہ دور ہو چکا ہے اب اس معاملہ میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے۔گویا ہمارے صدرانجمن کے کارکنوں کی نے بالا افسروں کو یہ کہنے کا موقع دے دیا ہے کہ اب گڑے مردے کیوں اکھاڑیں۔جس وقت کوئی کسی کا گلا دبا رہا ہو اور ابھی دم باقی ہو تو ہر ایک اس کی مدد کو پہنچتا ہے کہ شاید بچ جائے مگر جب وہ مر چکا ہو تو لوگوں کو جلدی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔پس جس ذہنی حالت میں حکومت کے بالا افسر دخل دیا کرتے ہیں اسے خود ہمارے کارکنوں نے اپنی سستی سے دور کر دیا ہے اگر صدرانجمن ایسے وقت میں وائسرائے تک پہنچتی جبکہ واقعات ابھی تازہ ہی تھے تو دس فیصدی امکان