خطبات محمود (جلد 17) — Page 222
خطبات محمود ۲۲۲ سال ۱۹۳۶ء میں حصہ لے سکے جن میں جماعت احمد یہ حصہ نہیں لے سکتی۔اس وقت منجملہ دیگر شرائط کے ایک شرط میں نے یہ بھی رکھی تھی کہ سلسلہ کے وقار اور اس کی روایات کو کسی صورت میں بھی پس پشت نہ ڈالا جائے ، اسلامی تعلیم کے خلاف کوئی بات نہ کی جائے اور حکومت وقت کا کوئی قانون نہ توڑا جائے۔میں نے تین ضروری شرائط رکھے تھے اور بتایا تھا کہ ان کے ماتحت لیگ اپنی ذمہ داری پر کام کرے ہاں مناسب مشورہ مجھ سے لے سکتی ہے اور یا جب میں خود مناسب سمجھوں دخل دے سکتا ہوں۔اب میں سمجھتا ہوں کہ ایسا موقع آیا ہے کہ مجھے خود دخل دینا چاہئے اور چونکہ اس کا تعلق لیگ کے ہزاروں ممبروں کے ساتھ بلکہ تمام جماعت کے ساتھ اور ایک حصہ کا تعلق حکومت کے کی ساتھ بھی ہے اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ خطبہ میں یہ امر بیان کر دوں تا سب کو علم ہو جائے۔میری ذاتی رائے یہ ہے کہ جبکہ نیشنل لیگ کے صدر حکومت سے گفت و شنید کر رہے تھے تو ممبروں کو رائے زنی نہ کرنی چاہئے تھی۔میرے نزدیک انسان کو ہمیشہ ایک خاص پالیسی کو مد نظر رکھ کر کام کرنا چاہئے۔میں مانتا ہوں کہ جو رائے زنی کی جارہی ہے وہ آئینی طریق کے اندر ہے مگر آئینی طریق بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔بعض ایسے کہ ایک وقت میں دونوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے اور پھر بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو آگے پیچھے کرنا پڑتا ہے۔اور جب ایک طرف اپنی براءت کی خواہش حکومت سے کی جارہی ہو تو دوسری طرف ایسے طریق اختیار کرنا جس سے اپنے طور براءت کرنے کا ارادہ ظاہر ہوتا ہو کچھ ایسا درست نہیں معلوم ہوتا۔جب حکومت سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ سلسلہ کے نقصان کی تلافی کرے تو چاہئے تھا کہ پہلے اس سے جواب لے لیا جاتا اور پھر اگر ضرورت باقی رہتی تو خود کوئی قدم اٹھایا جاتا۔دونوں کو ایک وقت میں جمع کر دینا میرے نزدیک مناسب نہیں تھا اور میری ذاتی رائے ہے کہ اس بارہ میں ممبروں نے غلطی کی ہے اور اگر لیگ نے ایسا کرنے کی اجازت دی ہے تو اس نے بھی عقلا غلطی کی ہے۔یا تو اسے حکومت کو مخاطب ہی نہ کرنا چاہئے تھا اور جب مخاطب کیا گیا تو پہلے اس سے فیصلہ کرانا چاہئے تھا اور یا پھر یہ کہ دینا ہے چاہئے کہ آپ تو فیصلہ کرتے نہیں اور خواہ مخواہ دیر لگاتے چلے جاتے ہیں اس لئے ہم اب خودسلسلہ کی عزت کو بچانے کی کوشش پر مجبور ہیں۔میرے نزدیک ان تینوں صورتوں میں سے ایک نہ ایک کا اختیار کرنا ضروری تھا۔یا تو حکومت کو مخاطب ہی نہ کیا جاتا یا اسے مخاطب کیا جاتا اور اس سے فیصلہ