خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 224

خطبات محمود ۲۲۴ سال ۱۹۳۶ء ضرور تھا کہ وہ دخل دے دیتے لیکن وہ ایسے وقت میں ان کے پاس پہنچے جبکہ حکام بالا درست سمجھتے ہیں کہ لوہا ٹھنڈا ہو چکا ہے اور جب معاملہ وزیر ہند تک پہنچے گا تو ان کیلئے بھی یہ کہنے کا موقعہ ہوگا کہ میں تو غیر معمولی حالات میں دخل دیا کرتا ہوں اب ان باتوں پر بہت عرصہ گزر چکا ہے اور میرے لئے دخل دینے کی کوئی وجہ نہیں۔نیشنل لیگ نے بھی اسی قسم کی سستی سے کام لیا ہے غالباً نومبر میں ہائی کورٹ میں فیصلہ ہوا تھا اسے زیادہ سے زیادہ دسمبر تک حکومت سے گفت و شنید ختم کر لینی چاہئے تھے اور پھر جنوری میں اپنی کاروائی شروع کر دینی چاہئے تھے۔لیگ کی اسی ستی کا نتیجہ ہے کہ ایک افسر نے کہہ دیا کہ جب اتنی دیر تم لوگ خاموش رہے تو اب کیا ضرورت اس سوال کو اٹھانے کی ہے۔گو یہ جواب غلط ہے اور دلائل سے اس کی غلطی کو ثابت کیا جاسکتا ہے مگر فطرتِ انسانی کی اس کمزوری کو کیا کیا جائے کہ وہ ایسے موقع پر بہانے ڈھونڈتی ہے۔کوئی شخص جب مشکل میں پھنس جاتا ہے اور وہ مذہبی آدمی نہ ہو تو وہ چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس مشکل سے پیچھا چھڑائے اور حکومت کے افسروں کا قول اور فعل ایسا ہی ہے لیکن یہ کہنے کا موقعہ ان کو میرے نزدیک لیگ نے ہی دیا ہے۔میرے نزدیک ہائی کورٹ کے فیصلہ کے پندرہ روز کے اندر اندر حکومت کو مخاطب کر لینا چاہئے تھا اور اگر کی پہلی چٹھی کا جواب نہ آتا تو اتنے ہی عرصہ کے بعد دوسری لکھی جاتی۔یہ تو بے شک نہیں لکھنا چاہئے تھا کہ فلاں تاریخ تک ایسا کرو ورنہ ہم اس اس طرح کریں گے کیونکہ یہ ایک قسم کا چیلنج ہے اور حکومت کو چیلنج دینا عقل اور ادب کے خلاف ہے وہ اسے دھمکی سمجھتی ہے اور جس کے ہاتھ میں سونٹا ہو وہ دھمکی سے جلدی غصہ میں آجایا کرتا ہے اور جلدی ہتک محسوس کرنے لگ جاتا ہے۔دنیا میں بہت جلد اپنی ہتک دو قسم کے لوگ محسوس کرنے لگتے ہیں یا تو طاقت ور جو سمجھتے ہی ہیں ہم اپنا اعزاز کرا سکتے ہیں اور یا پھر بہت کمزور۔پس حکومت کو یہ تو نہیں کہنا چاہئے تھا کہ فلاں تاریخ تک فیصلہ کر دو کیونکہ اس سے وہ غصہ میں آکر کہہ دیتی کہ اچھا جاؤ جو کرنا ہو کر لو لیکن یہی بات لکھنے کا ایک اور طریق ضرور ہے اور جب مطالبہ معقول ہو تو بغیر دھمکی کے بھی یہ بات لکھی جاسکتی ہے۔اس موقع پر ہماری پوزیشن یہ تھی کہ احراری اس فیصلہ کو شائع کر رہے تھے جس کے بعض حصوں کے متعلق ہائی کورٹ نے سخت ریمارکس دیئے ہیں بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ ایسے فیصلوں سے