خطبات محمود (جلد 17) — Page 156
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۱۴۷ سال ۱۹۳۶ء میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ آنے دیں کیونکہ روحانی سلسلوں کے تمام امور کی بنیا د دو ہی چیزوں پر ہوتی دوهی ہے ایک طرف بندے کی انتہائی کوشش اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا انتہائی فضل ۔ روحانی سلسلے چونکہ کمزور جماعتوں سے چلائے جاتے ہیں ، ان کے افراد بہت تھوڑے ہوتے ہیں ، ان کے پاس سامان نہایت ہی کم ہوتا ہے، دنیوی طور پر ان سامانوں اور ان افراد سے کامیابی کا منہ دیکھنا مشکل ہوتا ہے اس لئے جو کمی اس کوشش اور سامانوں کی قلت اور افراد کی کمی کی وجہ سے رہ جاتی ہے اسے اللہ تعالیٰ کا فضل پورا کر دیتا ہے۔ پس یہ دو چیزیں مل کر ہمیشہ روحانی جماعتوں کی کامیابی کا موجب ہوتی ہیں اور یہی ہماری کامیابی کا موجب ہو سکتی ہیں ۔ ایک طرف خدا تعالیٰ کا ہم سے تقاضا ہے کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ اُس کے قدموں میں لا ڈالیں اور اُس کے دین کیلئے قربان کر دیں اور دوسری طرف اُس کا وعدہ ہے کہ باقی کمی وہ اپنے فضل سے پوری کر دے گا۔ خدا تعالیٰ تو وعدوں کا سچا ہے اس کی کوئی بات غلط نہیں ہو سکتی ۔ پس اگر کوئی نقص ہوا اور نتائج صحیح نہ نکلیں ، اگر کامیابی کے آنے میں دیر لگے تو قطعی طور پر ایک ہی نتیجہ اس سے نکل سکتا ہے کہ جس حد تک ہم سعی کر سکتے تھے اُس حد تک ہم نے سعی نہیں کی۔ اگر خدا نخواستہ ہمیں ناکامی حاصل ہو تو سوائے تین باتوں کے کوئی چوتھی بات نہا نہیں ہو سکتی ۔ یا تو یہ کہ ہم نے اپنا فرض ادا کرنے میں کوتاہی کی یا یہ کہ خدا تعالیٰ نے اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں کوتاہی کی اور یا یہ کہ جس سلسلہ کو ہم روحانی سمجھتے تھے وہ روحانی نہیں تھا بلکہ دُنیوی اور یا سلسلہ کو تھا خدا تعالیٰ کی طرف سے اُس کی نصرت کا کوئی وعدہ نہ تھا۔ پس یہ تین پہلو ہی اس کی ناکامی کے ہو سکتے ہیں چوتھا کوئی نہیں ۔ اول یہ کہ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اس میں تو ہمارے لئے کسی شک کی گنجائش ہی نہیں ۔ دوم یہ کہ خدا تعالیٰ اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح ادا کرنے والا ہے اس میں بھی ہمیں کوئی شک و شبہ نہیں ہو سکتا ۔ پس اگر کوئی بات باقی رہ جاتی ہے تو یہی کہ کوتاہی ہم سے ہوئی ہے اور ہماری غلطیوں سے کامیابی میں دیر ہو گئی اور مخالفتوں میں ترقی ہو گئی ۔ پس ہمارا فرض ہے کہ اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اور اپنے فرائض کو یا د رکھتے ہوئے ان تمام تدابیر کو اختیار کریں جو اللہ تعالیٰ نے اسلام اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی ترقی کیلئے فرمائی ہیں اور