خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 759 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 759

خطبات محمود ۷۵۹ سال ۱۹۳۶ کے اس مطالبہ کی اہمیت کو نہیں سمجھتے در حقیقت میری غرض اس تحریک سے صرف عارضی فائدہ حاصل کرنا نہیں بے شک اس کا ایک عارضی فائدہ بھی ہے اور وہ یہ کہ جو دوست تحریک جدید کے مالی مطالبات میں حصہ لیں انہیں ایک کھانا پکانے کی وجہ سے مالی تنگی محسوس نہ ہو اور ان کی بشاشت قائم رہے۔یہ ٹھیک ہے اور اس تحریک میں ایک یہ فائدہ بھی مد نظر ہے لیکن میری اصل غرض یہ ہے کہ ہم دنیا میں اس اسلامی تمدن کو پھر قائم کریں جو محمد اللہ نے قائم کیا۔یہ مستقل غرض ہے اور وہ عارضی ہے ہم جب تک اس مستقل غرض کو قائم نہیں کر دیتے اُس وقت تک یقیناً ہم اسلام کی روح کو قائم نہیں کر سکتے۔اولیاء اللہ نے لکھا ہے کہ اعلیٰ روحانی ترقیات کیلئے کم کھانا، کم بولنا اور کم سونا ضروری ہے اور کم کھانے سے سادہ زندگی کا بڑا تعلق ہے۔زیادہ کھانے کھانے والوں کو یہ پتہ ہی نہیں لگتا کہ وہ کتنا کھا گئے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ ایک امیران کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے بھوک نہیں لگتی کوئی ایسا نسخہ بتائیے جس سے بھوک خوب لگے۔فرمایا ہم نے اُس کا کچھ دن علاج کیا ج لیکن ایک دن ہمیں جو اُس کے کھانے پر جانے کا اتفاق ہوا تو کیا دیکھا کہ چالیس کے قریب کھانے اس کے دستر خوان پر جمع ہیں وہ ایک ایک تھالی اُٹھاتا اور ہر تھالی میں سے ایک ایک لقمہ اس غرض کیلئے کھاتا جاتا کہ وہ چکھ کر دیکھے کہ ان میں سے کون سی چیز اچھی پکی ہے اور اپنے کھانے کے متعلق فیصلہ کرے۔اس کے بعد اس نے دو چار کھانے پسند کر کے اپنے سامنے رکھ لئے اور چند لقمے کھا کر کہنے لگا مولوی صاحب! دیکھئے بالکل دل نہیں چاہتا کہ کھاؤں۔حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل فرمانے لگے میں نے اسے کہا اب آپ کا اور کھانے پر کیا دل چاہے چالیس تھے تو آپ نے چکھنے کی خاطر کھالئے ہیں حالانکہ عام طور پر انسان بتیس لقمے کھاتا ہے اور اس پر بھی آپ کو شکایت ہے کہ آپ کو بھوک نہیں لگتی۔تو زیادہ کھانے کھانے والوں کو یہ پتہ ہی نہیں لگتا کہ وہ زیادہ کھا رہے ہیں کیونکہ پیٹ کا کچھ حصہ چکھنے سے بھر جاتا ہے اور باقی حصہ چند اور لقموں سے بھر جاتا ہے تو چونکہ پیٹ میں جتنی گنجائش ہوتی ہے اتنی ہی غذاوہ کھا لیتا ہے اور کھانے ابھی سامنے پڑے ہوتے ہیں اس لئے وہ کی سمجھتا ہے کہ میں نے بہت تھوڑا کھایا ہے اور زبر دستی اور کھاتا جاتا ہے حالانکہ وہ چکھنے میں ہی بہت کچھ کھا چکا ہوتا ہے۔تو کم خوری، کم گوئی اور کم سونا یہ روحانی ترقیات کیلئے اولیائے الہی ضروری ہے