خطبات محمود (جلد 17) — Page 729
خطبات محمود ۷۲۹ سال ۱۹۳۶ پس میں اپنے لئے نہیں مانگتا اور نہ ہی اس کی مجھے عادت اور ہمت ہے جو خدا کیلئے دیتا ہے وہ دے اور اس کا بدلہ خود خدا ہو گا۔خدا پر ہی اسے تو کل رکھنا چاہئے اگر وہ چاہے تو اسے دنیا کی بھی دے دے اور چاہے تو انعام آخرت پر ملتوی رکھے۔بہر حال جو اخلاص سے قربانی کرتا ہے اُس کی قربانی ضائع نہیں جاتی۔زمین مٹ سکتی ہے ، آسمان مٹ سکتا ہے، سورج مٹایا جا سکتا ہے مگر خدا کے بندہ کا خدا کیلئے ڈالا ہوا دا نہ کبھی ضائع نہیں جا سکتا وہ ضرور نکلتا ہے خواہ اس دنیا میں نکلے اور خواہ آخرت میں۔مؤمن کی قربانی کو کوئی ضائع نہیں کر سکتا پس میرے مخاطب وہی ہیں جو خدا کیلئے قربانی کرتے ہیں نہ کہ میرے لئے اور قربانی کرتے وقت خدا کو مدنظر رکھتے ہیں نہ کہ دنیا کو۔ان کو بشارت ہو کہ ہر شخص اپنی قربانی اور ایثار کے مطابق بدلہ لے گا خدا تعالی کسی کا قرض نہیں رہنے دیتا وہ ضرور اس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی روحانی رنگ میں بھی اور عرفانی رنگ میں بھی ، تقویٰ کے رنگ میں بھی اور قوت عمل کے رنگ میں بھی ضرور بدلہ دے گا۔یہ وہی بہتر جانتا ؟ ہے کہ کسے کس رنگ میں بدلہ دینا مفید ہو سکتا ہے، وہ خوب جانتا ہے کہ بعض لوگوں کیلئے علم اور بعض کیلئے مال اور بعض کیلئے اطمینانِ قلب ٹھو کر کا موجب ہو جاتا ہے۔پس وہ کیوں اپنے بندے کو ٹھو کر دے۔نادان سمجھتا ہے کہ اگر اسے ایک خاص صورت میں انعام نہیں ملا تو اسے کچھ نہیں ملا حالانکہ اس کیلئے اس صورت میں انعام کا نہ ملنا ہی انعام کا ملنا ہوتا ہے۔( الفضل ۱۲ ؍ دسمبر ۱۹۳۶ء) بخاری کتاب فضل ليلة القدر باب تحرى ليلة القدر في الوتر (الخ) ے بخاری کتاب الدعوات باب ما يقول اذا اتى اهله سے بخاری کتاب الایمان باب الزكوة من الاسلام جلد ا صفحه ۲۶۴ بیروت ۱۹۷۸ء۔مسند احمد بن حنبل جلد ۳ صفحه ۱۴۳ بیروت ۱۹۹۴ء مسلم كتاب المساجد باب استحباب الذكر بعد الصلوة ه بخاری کتاب الرقاق باب التواضع بخاری کتاب الصلح باب الصلح في الدِّيَة صلى الله کے بخاری کتاب فرض الخمس باب ما كان النبي عليه يعطى المؤلفة (الخ)