خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 560

سال ۱۹۳۶ خطبات محمود الله ہے ہمارا ماٹولا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله۔( فرموده ۲۸ را گست ۱۹۳۶ء بمقام دھرم ساله) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- چونکہ دو دن سے مجھے گلے کے درد کی شکایت ہے اس لئے میں آج کے خطبہ میں ایک چھوٹاسا مضمون بیان کرنا چاہتا ہوں۔پچھلے جمعہ میں نے الفضل میں ایک دلچسپ بحث دیکھی اور وہ یہ کہ جماعت احمدیہ کا ماٹو کیا ہونا چاہئے ؟ اس مضمون پر دو دوستوں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے جو اخبار الفضل میں شائع ہو چکے ہیں اور یہ دونوں اصحاب میرے ماموں ہیں۔اسی ماٹو کے بارہ میں ایک تیسرا مضمون بھی میری نظر سے گزرا ہے جس کے بارہ میں مجھے ابھی تک یہ علم نہیں ہے کہ وہ اخبار میں بھی شائع ہوا ہے یا نہیں ؟ ماٹو کے بارہ میں جو دو مضمون اخبار میں شائع ہو چکے ہیں ان میں ایک مضمون میں تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہمارا ما ٹو فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ“ لے ہونا چاہئے اور دوسرے مضمون میں یہ بتلایا گیا ہے کہ ہمارا مح نظر جس کو دوسرے الفاظ میں ماٹو یر خطبہ دھرم سالہ کا ہے۔ایک دوست نے جن کو لکھنے کی مشق نہ تھی لکھاہے اس وجہ سے کئی جگہ مضمون حذف ہو گیا ہے۔میں نے کسی قدر اصلاح کر دی ہے اور اس خیال سے کہ تھوڑا ، بالکل نہ ہونے سے اچھا ہوتا ہے اسے شائع کرنے کیلئے بھجوا رہا ہوں۔بہر حال یہ دوست شکریہ کے مستحق ہیں۔خاکسار - مرزا محمود احمد