خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 531

خطبات محمود ۵۳۱ کھٹکھٹاؤں ؟ گویا ايَّاكَ نَسْتَعِينُ لازمی نتیجہ ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ کا۔سال ۱۹۳۶ اس مقام پر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہاں اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پہلے ہونا چاہئے تھا اور ايَّاكَ نَعْبُدُ بعد میں کیونکہ بغیر ا عانت الہی کے عبودیت کا مقام حاصل ہو ہی نہیں ہو سکتا۔ان کا یہ کہنا بھی ایک طرح سے درست ہے لیکن جس مقام کا یہاں بیان ہے اس میں عبودیت، استعانت سے قبل ہی درست ہے کیونکہ یہاں گویا پہلے سوال اٹھایا ہے کہ کون شخص اللہ تعالیٰ کا عبد ہوتا ہے اس کے بعد خود ہی جواب دے دیا کہ جو خدا تعالیٰ سے ہی استعانت طلب کرے اور صرف اسی کی طرف اُس کی نظر اُٹھے اور اسی پر اُس کا کامل بھروسہ ہو۔حضرت سید عبدالقادر جیلانی فرمایا کرتے تھے کہ میں اُس وقت تک کھانا نہیں کھایا کرتا جب تک مجھے اللہ تعالیٰ نہیں فرما دیتا کہ اے عبدالقادر ! تجھے میری ہی ذات کی قسم ہے کہ تو ضرور کھانا کھا اور میں اُس وقت تک کپڑا نہیں پہنتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ مجھے نہیں فرما دیتا کہ اے عبد القادر ! تجھے میری ہی ذات کی قسم کہ تو ضرور یہ کپڑا پہن۔یہ بھی ایک خاص مقام ہے جو اُن کو حاصل تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر لوگوں نے اعتراض کیا کہ حضور میں سادگی اور فقر نظر نہیں آتا۔مجھے یاد ہے کہ حضرت خلیفہ اول ان لوگوں کو یہ جواب دیا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے الہام میں سلیمان کے نام سے بھی تو یا د فر مایا ہے اور وہ بادشاہ تھے۔پس اگر حضور میں حضرت سلیمان کے حالات نہ پائے جائیں تو حضور کا یہ الہام غلط ٹھہرے گا۔حضور کو اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کا رنگ عطا فرمایا تھا۔حضور میں نبی کریم ﷺ کی سی سادگی بھی تھی اور سلیمان کے حالات بھی حضور میں نظر آتے تھے۔پس عبودیت تامہ کے بعد انسان کو کلی طور پر خدا تعالیٰ کی طرف سے استعانت حاصل ہو جاتی ہے اور ہر ایک انسان کو یہ درجہ حاصل ہو سکتا ہے بشر طیکہ وہ ہمت نہ ہارے۔حتی کہ ابو جہل جیسا انسان بھی اِيَّاكَ نَعْبُدُ پر عمل کر کے إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا مستحق بن سکتا ہے۔اگر ابو جہل کیلئے یہ امر محال ہوتا تو اس کا یہ مطلب ہے کہ پھر خدا تعالیٰ کو کوئی حق نہیں کہ ابو جہل کو سزا دے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس کے اندرا گر یہ ملکہ ہی نہیں رکھا تو اس کو سزا دینا قرین انصاف نہیں کیونکہ پھر وہ معذور ہے۔پس اس مقام کے حاصل کرنے کی طاقت اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو دے رکھی ہے خواہ وہ کسی ملک کا ہو، کسی قوم کا ہو، کسی حالت میں زندگی