خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 530

خطبات محمود ۵۳۰ سال ۱۹۳۶ء کا رزق وہیں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچ جایا کرتا تھا۔ایک دفعہ ان کو فاقہ ہوا اور وہ اُس جگہ کو چھوڑ کر شہر کو چل دیئے اور ایک دوست کے ہاں سے کھانا کھایا اور کچھ کھانا لے کر واپس اسی جگہ کی طرف آنے لگے تو ان کے دوست کا کتا بھی اُن کے پیچھے پیچھے ہولیا۔انہوں نے جب گتے کو پیچھے آتے دیکھا تو اس کو بھوکا سمجھ کر ایک روٹی ڈال دی۔تھوڑی دور جا کر پھر دیکھا کہ کتا ابھی پیچھے ہی چلا آ رہا ہے تو دوسری روٹی ڈال دی۔تھوڑی دیر کے بعد جب پھر گتا پیچھے ہی چلا آتا نظر آیا تو نہایت غصہ کے ساتھ تیسری روٹی اُس کی طرف پھینک کر کہا کہ تو بڑا بے حیا ہے کہ میرا پیچھا ہی نہیں چھوڑتا۔ان کے اس کہنے پر معاً اُن کو کشف ہوا اور کتا انسان کی شکل ہو کر ان کو یہ کہتا ہوا نظر آیا کہ بے حیا میں ہوں یا تو ہے؟ مجھے اس گھر میں کئی دنوں سے فاقے ہورہے ہیں مگر میں نے وفاداری کی وجہ سے اس گھر کو چھوڑ نا گوارا نہ کیا تجھے صرف ایک ہی فاقہ گزرا تھا کہ تو نے خدا تعالیٰ کا دروازہ چھوڑ دیا۔پس گتے نے انسانی شکل میں آکر اُن کو یہ بتایا کہ مومن کو اللہ تعالیٰ سے کسی صورت میں بھی مایوس نہ ہونا چاہئے اور ہر وقت اُس کے دروازہ پر ہی اپنی نظر کو لگائے رکھنا چاہئے۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے مجھے یہ تو قطعاً یقین نہیں ہے کہ وہ اپنی ذات کے بارہ میں ہی فرماتے ہوں کہ ہم طبیبوں کی بھی کیا زندگی ہے کہ اگر ہمارے سامنے کوئی شخص اپنے نیفے کو کھجلاتا ہے تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم کو کچھ فیس دینے لگا ہے۔یہ انہوں نے عام اطباء کی حالت بیان فرمائی ہے نہ کہ اپنی۔کیونکہ کامل مومن کی نظر لوگوں کی طرف نہیں ہوتی اور حضرت خلیفہ اول کو ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ جب اُن کو روپوں کی ضرورت ہوتی تو فوراً کوئی شخص آتا اور علاج کروا کے بغیر گننے کے کچھ روپے دے جاتا۔ایک دفعہ حضرت حافظ روشن علی صاحب مرحوم، حضرت خلیفہ اول کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص آیا اور حضور کو کچھ روپے دے گیا۔حضور نے حافظ صاحب مرحوم سے گنے کو فرمایا تو وہ روپے اُسی قدر نکلے جس قدر ایک قرض خواہ کو دینے تھے۔ایسا معاملہ تو عام مومنوں سے بھی ہو جاتا ہے لیکن عام مومنوں میں إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی شرط اعلی پیمانہ پر نہیں پائی جاتی بلکہ یہ صرف خاص مؤمنوں کیلئے ہی ہے۔پس جب کامل مؤمن إِيَّاكَ نَعْبُدُ کہہ کر خدا تعالیٰ کا کامل عبد ہو جاتا ہے تو پھر ايَّاكَ نَسْتَعِينُ کہتا ہے یعنی اے خدا! جب میں تیرا ہی بندہ ہو چکا اب میں تیرے دروازے کو چھوڑ کر اور کسی کا دروازہ کیوں