خطبات محمود (جلد 17) — Page 478
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ کے کر کھلاؤ۔چنانچہ غلام جا کر آپ کو بلا لا یا بٹھایا اور انگور کھلائے اور پھر دریافت کیا کہ آپ می ساتھ کیا واقعہ پیش آیا ہے؟ آپ نے اسے ساری بات سنائی اور پھر کہا کہ میں جب طائف - واپس آ رہا تھا تو مجھ پر جبریل نازل ہوئے اور کہا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ اگر تو کہے تو طائف والوں کا تختہ اُسی طرح اُلٹ دوں جس طرح لوط کی بستی کا اُلٹا گیا تھا مگر میں نے اسے جواب دیا کہ اگر یہ لوگ تباہ ہو گئے تو مجھ پر ایمان کون لائے گا۔آپ کی باتیں سن کر عیسائی غلام کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے جب اس کے آقا نے یہ دیکھا تو اس کی مذہبی غیرت جوش میں آگئی اور اپنے غلام کو واپس بلا لیا اور کہنے لگا کہ کیا تو بھی اس کے پھندے میں آ گیا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہی واقعہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی نظر کے سامنے تھا اور آپ نے نہ چاہا کہ آپ کا قدم کسی ایسی جگہ پڑے جہاں آنحضرت ﷺ کا قدم نہ پڑا تھا۔اس واقعہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مؤمن کو ایک ہی وقت میں بہادر بھی اور رحیم بھی ہونا چاہئے۔یہ دو جذبات بہت کم اکٹھے مل سکتے ہیں۔مگر وہ بہادری حقیقی نہیں ہوتی جس میں ظلم ہو۔وہ شجاعت شجاعت نہیں بلکہ تہور ہوتا ہے۔حقیقی بہادری مؤمن میں ہی ملتی ہے کیونکہ اس کے ساتھ رحم کا جذ بہ ضروری ہے۔مؤمن بیک وقت بہادر بھی اور رحیم بھی ہوتا ہے۔اگر وہ ایک طرف اپنی جان کو اخروٹ اور بادم کے چھلکے سے بھی حقیر سمجھتا ہے تو دوسری طرف اس کے اندرا تارحم ہوتا ہے کہ وہی لوگ جو اس پر ظلم کرتے ہیں ان سے وہ عفو کا معاملہ کرتا ہے۔ایک واقعہ میں نے رسول کریم ﷺ پر کفار کے مظالم کا سنایا ہے جو ایک لمبی زنجیر کی کڑی ہے۔متواتر تیرہ سال تک آپ پر یہ مظالم جاری رہے۔کبھی آپ پر تلواروں سے حملہ کیا جاتا تو کبھی تیروں اور سونٹوں اور پتھروں سے ، کبھی آپ کے اوپر نجاست پھینکی جاتی اور کبھی گلا گھونٹا جاتا۔حتی کہ آخری ایام میں جب آپ کو مکہ چھوڑنا پڑا مسلسل تین سال تک آپ کا اور آپ کے صحابہ کا ایسا شدید بائیکاٹ کیا گیا کہ کسی سے سو دا بھی مسلمان نہ خرید سکتے تھے۔حضرت ابوبکر کی روایت ہے کہ اتنی تنگی ہو گئی تھی کہ بعض دفعہ دنوں کھانے کو کچھ نہیں ملتا تھا۔پاخانے سوکھ گئے اور جب پاخانہ آتے تو بالکل مینگنیوں کی طرح ہوتا کیونکہ بعض اوقات درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کرتے تھے ھے اور بعض اوقات کھجور کی گٹھلیاں۔احادیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کی چہیتی بیوی جس نے اسلام