خطبات محمود (جلد 17) — Page 477
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ جب خود بادشاہ نے آپ سے سوال کیا کہ آپ اپنے عقائد چھوڑ دیں یا کم از کم اُن کو چھپالیں تا لوگوں کا جوش کم ہو تو آپ نے جواب دیا کہ میں کس چیز کو چھپاؤں۔صداقت کو؟ اگر میں کوئی بُری بات پیش کر رہا ہوتا تو بادشاہ تو گجا کسی معمولی آدمی کے کہنے سے بھی چھوڑ دیتا مگر کیا صداقت کو بھی چھپایا جاسکتا ہے؟ آپ نے ان تکالیف کو مصیبت نہیں سمجھا اور یہ خیال نہیں کیا کہ میری قربانی کے عوض اللہ تعالیٰ نے مجھ سے بیوفائی کی ہے انہوں نے اپنی قوم کے متعلق بھی اس فعل کو بیوفائی نہیں سمجھا۔ایک شخص کا جو اس موقع پر موجود تھا بیان ہے کہ جب آپ پر پتھر پڑ رہے تھے ، جسم چور ہو رہا تھا ، ہڈیاں ٹوٹ رہی تھیں ، اُس وقت آپ کی زبان پر یہ الفاظ تھے کہ اے میرے رب ! ان کو ہدایت دے کہ یہ نادانی سے ایسا کرتے ہیں۔مؤمن ہر چیز میں رسول کریم ﷺ کا اسوہ پیش نظر رکھتا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے پیش نظر اُس وقت طائف کا واقعہ تھا جو یوں ہے کہ مکہ والوں نے جب آنحضرت ﷺ کی تبلیغ کو سننے سے انکار کر دیا تو آپ کو خیال آیا کہ طائف کے لوگوں کو تبلیغ کروں۔مکہ کے بد باطن مخالفوں کو جب علم ہوا تو انہوں نے طائف والوں کے پاس آدمی بھیجا کہ اس شخص کیلئے ہم نے مکہ میں تو کوئی جگہ چھوڑی نہیں ہمیں امید ہے کہ تم لوگ اپنے مذہب کیلئے ہم سے کم غیرتمند ثابت نہ ہوگے۔طائف والوں نے جواب دیا کہ تم اسے یہاں آنے دو تم سے زیادہ بدسلوکی ہم کریں گے۔رسول کریم ہے جب طائف پہنچے تو ان لوگوں نے دھوکا سے آپ کو ایک جگہ بلایا کہ آپ کی باتیں سنیں گے اور ادھر شہر کے لڑکوں کو جمع کر لیا جن کی جھولیوں میں پتھر بھرے ہوئے تھے اور ساتھ گتے تھے۔جب آپ نے وہاں پہنچ کر بات شروع کی تو لڑکوں نے پتھر مارنے شروع کر دیئے اور گتے بھی چھوڑ دیئے گئے۔پتھر آپ پر گرتے اور جسم اطہر پر زخم لگتے جاتے تھے اور خون بہتا جاتا تھا۔آپ واپس بھاگتے ہوئے کسی جگہ دم لینے کیلئے ٹھہرتے تو جسم اطہر سے خون پونچھتے جاتے اور ساتھ فرماتے اے میرے ربّ! یہ لوگ نہیں جانتے میں کون ہوں تو انہیں معاف کرتے۔عربوں میں شرافت کا مادہ تھا اس لئے دشمن بھی بعض اوقات دل میں درد محسوس کرتا تھا۔رستہ میں ایک عرب سردار کا باغ تھا جب اُس نے آپ کو اس حالت میں آتے دیکھا تو اس کے دل میں درد پیدا ہوا اور اپنے عیسائی غلام سے کہا انگور توڑ کر لے جاؤ اور اس شخص کو بلا لا ؤ اور اسے بٹھا