خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 446

خطبات محمود ۴۴۶ سال ۱۹۳۶ کروں؟ جب اُس نے بار بار دہرانا شروع کیا کہ میں آپ کی کیا خاطر کروں تو میں سمجھا یہ شرابی ہے۔اتنے میں پھر کوئی شخص ڈبہ میں آ گیا اس پر وہ اسی شخص سے جس کو کہہ رہا تھا کہ میں آپ کی کیا خاطر کروں؟ نہایت سختی سے مخاطب ہوا اور کہنے لگا دیکھتے نہیں ایک بھلا مانس آیا ہے اور تم اس کیلئے جگہ نہیں بناتے۔وہ ایک معزز خاندان سے تعلق رکھنے والا شخص تھا اور اس کا باپ پونچھ کا وزیر تھا مگر شراب کے نشے میں وہ ایسی باتیں کہنے لگ گیا جو عقل و ہوش قائم ہونے کی صورت میں کبھی نہ کہتا۔تو شراب انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے اور اسے بالکل دیوانہ اور پاگل بنا دیتی ہے۔مگر ایمان کی قوت ارادی کو دیکھو۔محمد اللہ کے چند صحابہ ایک دفعہ ایک مکان میں جس کے کواڑ بند تھے بیٹھ کر شراب پی رہے تھے ، اُس وقت تک شراب کی حرمت کا حکم نازل نہیں ہوا تھا، ایک مٹکا شراب کا وہ ختم کر چکے تھے اور دوسرا مٹکا وہ شروع کرنے والے تھے کہ گلی میں سے ایک شخص کی یہ آواز اُن کے کانوں میں پڑی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ مجھ پر خدا کا حکم نازل ہوا ہے کہ آج سے شراب حرام کی جاتی ہے۔جب یہ آواز ان کے کانوں میں پہنچی تو ایک شخص جو شراب کے نشے میں مد ہوش تھا دوسرے سے کہنے لگا اٹھو دروازہ کھولو اور پتہ لو کہ یہ کہنے والا کیا کہتا ہے۔سننے والوں میں سے ایک شخص نے چاہا کہ اُٹھ کر دروازہ کھولے اور پکارنے والے سے اس کے اعلان کی حقیقت دریافت کرے لیکن ایک اور شخص جو ان کی طرح ہی شراب میں مخمور تھا اُٹھا اور اُس نے سونٹا پکڑ کر شراب کے مٹکے پر زور سے مار کر اُسے پھوڑ دیا۔جب باقیوں نے پوچھا یہ تم نے کیا کیا پہلے پوچھ تو لینے دیتے کہ اس حکم کا مفہوم کیا ہے۔تو اس نے جواب دیا کہ میں پہلے مٹکا توڑوں گا پھر حکم کی حقیقت پوچھوں گا ہے۔جب میرے کانوں نے یہ آواز سن لی ہے کہ محمد ﷺ نے شراب منع کر دی ہے تو میں پہلے اس حکم کی تعمیل کروں گا پھر پوچھوں گا کہ کن حالات میں اور کن قیود کے ساتھ یہ حکم دیا گیا ہے۔کتنا عظیم الشان فرق ہے جو ہمیں محمد ﷺ کے صحابہ اور دوسرے لوگوں میں نظر آتا ہے۔چلے جاؤ گاؤں کی مجالس میں، چلے جاؤ شہروں کی گلیوں میں، چلے جاؤ بازاروں میں اور دیکھو کہ شرابیوں کی کیا حالت ہوتی ہے۔نہ ان کی عقلیں ٹھکانے ہوتی ہیں، نہ فہم ٹھکانے ہوتے ہیں، نہ مجھے ٹھکانے ہوتی ہے، اُن کی زبان بے قابو ہوتی ہے اور ان کے ہاتھ پاؤں غیر ارادی طور پر حرکت