خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 366

خطبات محمود ۳۶۶ سال ۱۹۳۶ء کہ پھر احمدی کیوں کانگرس میں شامل نہیں ہوتے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس وجہ سے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بتائی ہوئی شرطیں پوری نہیں ہوتیں اور نیشنل لیگ کا استقبال کانگرس میں شامل ہونے کے مترادف نہیں ہے ) ہاں قانون شکنی اور عدم تعاون وغیرہ تحریکات کو آپ ہمیشہ نا پسند فرماتے رہے ہیں اور ہم بھی نا پسند کرتے رہیں گے۔اس کے متعلق اسلام نے تفصیلی احکام دیئے ہیں اور ہم پر مظالم خواہ کتنے بھی بڑھ جائیں ہم ایسی تحریکوں سے بچیں گے۔ہاں جو تعاون پہلے تھا ضروری نہیں کہ اسے قائم رکھیں عدم تعاون تو کسی صورت میں نہ کریں گے لیکن جہاں قانون مجبور نہیں کرتا وہاں تعاون بھی نہیں کریں گے اور اپنے حقوق کا مطالبہ کریں گے اور یہ بات قانون کے خلاف نہیں۔پانچواں اعتراض یہ ہے کہ اس کا موجب بعض حکام کا نا واجب رویہ ہے۔مجھے اس مجرم کے اقرار میں کوئی تامل نہیں۔میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ ہمارے اس رویہ کا موجب بعض افسروں کا ناواجب رویہ ہے اور یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں۔اعتراض جب ہوتا اگر ہم اپنے اصل کو چھوڑ دیتے محض ناراضگی کا اظہار بُری بات نہیں بلکہ اس کے جواب میں نا واجب رویہ اختیار کرنا بُری بات ہے۔اگر ہم نے اس صبر آزما حالت کے باوجود جماعت کو قابو میں رکھا ہے تو ہمارا یہ غصہ قابل اعتراض نہیں ہوسکتا۔صبر کی آزمائش غصہ کے وقت ہی ہوتی ہے کہ بچہ کو جب ماں دودھ دیتی ہے تو اُس وقت اس کے صبر کی آزمائش نہیں ہوتی بلکہ اُس وقت ہوتی ہے جب وہ غصہ سے دیوانی ہو کر اسے گھر سے نکالتی ہے۔یہ ہمارے صبر کی آزمائش کا موقع تھا ہمیں سخت غصہ دلایا گیا مگر ہم نے کوئی ناواجب رویہ اختیار نہیں کیا۔اس فیصلہ سے زیادہ غصہ دلانے والی بات اور کیا ہوسکتی ہے جو مسٹر کھوسلہ نے کیا، اس سے زیادہ نا واجب رویہ کیا ہوسکتا تھا کہ راہ چلتے اور اپنی جائداد کی حفاظت کرتے ہوئے احمدیوں کو گرفتار کر لیا گیا، چھوٹے چھوٹے بچوں کی مجلسوں پر ایکٹ ۳۲ کا استعمال کیا گیا، کیا یہ معمولی باتیں تھیں اور کیا دنیا میں کسی دوسری جگہ ایسا کر کے حکومت کے افسر آرام سے رہ سکتے تھے؟ مگر ہم نے کچھ نہیں کیا۔پس اظہارِ ناراضگی کوئی بُری بات نہیں ناجائز ذرائع اختیار کرنا بری بات ہے۔آخری بات اختلاف رکھنے کی اجازت کے متعلق ہے۔سو یہ اجازت میں ہمیشہ