خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 367

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء دیتا آیا ہوں اگر سب باتیں سمجھانے کے باوجود کوئی شخص یہ سمجھتا ہو کہ وہ متفق نہیں ہوسکتا تو جبکہ وہ فساد اور بدامنی نہ پیدا کر رہا ہو اور اختلاف کو اپنی ذات تک محدود رکھتا ہو ا سے اختلاف رکھنے کی اجازت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک شخص نے جو اب ہمارے رشتہ دار اور عزیز ہیں کہا تھا کہ میں اس شرط پر آپ کی بیعت کرتا ہوں کہ مجھے حضرت علی کو دیگر خلفاء سے افضل سمجھنے کی اجازت دی جائے وہ چونکہ شیعہ تھے اس لئے اس قسم کی اجازت طلب کی اور آپ نے اجازت دے دی۔پس اگر ایک شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیگر خلفاء سے افضل قرار دیتے ہوئے بیعت کر سکتا ہے تو یہ عقیدہ رکھنا کہ انگریزوں سے ہمارا اتنا تعلق ہونا چاہئے کہ اس کی وجہ سے پنڈت نہرو صاحب کا استقبال تک ہمارے لئے جائز نہ رہے کوئی ایسی بات نہیں جو بیعت میں رہنے سے مانع ہو۔اس کے بعد میں اُس مضمون کی طرف آتا ہوں جس کے متعلق میں گزشتہ دو ہفتوں سے خطبے دے رہا ہوں۔میں نے تین ایسے اسباب بیان کئے تھے جن کی وجہ سے عمل کی اصلاح عقیدہ کی اصلاح سے زیادہ مشکل ہو جاتی ہے آج میں ایک چوتھا سبب بیان کروں گا جس کی وجہ سے اعمال کی اصلاح بہ نسبت عقائد کی اصلاح کے مشکل ہو جاتی ہے خصوصاً ایسے وقت میں جبکہ مذہب کے ساتھ حکومت نہ ہو اور وہ سبب یہ ہے کہ عقیدہ کا تعلق عادت سے نہیں ہوتا بلکہ وہ جب بدل جاتا ہے ہے تو ہمیشہ کیلئے بدل جاتا ہے مگر عمل کا تعلق عادت سے ہوتا ہے۔کوئی شخص اگر دلائل سن کر یہ عقیدہ قائم کرلے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں تو وہ ان کی زندگی کے متعلق اپنے سابقہ عقیدہ کی طرف عادت کے طور پر بار بار نہیں کوٹے گا بلکہ اس کا عقیدہ ہمیشہ کیلئے بدل جائے گا مگر اعمال میں عادت کا دخل ہوتا ہے (بے شک خیالات میں بھی عادت کا ایک حد تک دخل ہوتا ہے مگر بہت کمزور ) عادت بے سوچے سمجھے کام کرنے کا نام ہے مگر عقیدہ جانتے ہوئے ایک بات کو ماننے کا نام ہے۔تم کسی شخص کے پاس جاؤ اور یکدم ہاتھ اُس کے پیٹ کی طرف لے جاؤ وہ فوراً کود کر پیچھے ہٹ جائے گا۔ہم جب بچے تھے تو اس طرح کھیلا کرتے تھے اب بھی بچے اسی طرح کھیلتے ہیں پہلے چھوٹی انگلی اٹھاتے ہیں کہ اس سے ڈرو گے پھر دوسری پھر تیسری اور پھر چوتھی اور پھر انگوٹھا جھٹ آنکھ کی طرف لے جاتے ہیں۔اس پر دوسرا شخص یکدم آنکھ بند کر لیتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے یہ ڈر نہیں