خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 362

خطبات محمود ۳۶۲ سال ۱۹۳۶ء اپنی بادشاہت قائم کرلے گی مگر ہمیں ان سے شکوہ نہیں تھا کیونکہ وہ اس بناء پر ہمیں کوئی تکلیف نہیں دیتے تھے۔یہ ان کا خیال تھا کہ یہ جماعت ایسے طریق پر چل رہی ہے کہ انگریزی حکومت کیلئے خطرہ کا موجب ہو سکتی ہے مگر ہمیں ان سے شکایت نہیں تھی۔ہم سمجھتے تھے کہ گو وہ اپنے آپ کو بہت چالاک سمجھتے تھے لیکن در حقیقت کم عقل تھے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ان کی کوٹھی پر جا کر بیٹھ جاتے اور مطالبہ کرتے کہ نکالوان کو یہاں سے۔پس اگر پنڈت صاحب کو فخر وطن ان معنوں میں کہا جائے کہ ان کے بغیر وطن کی نجات نہیں ہو سکتی تو یہ جماعت کی تعلیم کے خلاف ہے لیکن اگر اس کا مطلب یہ ہو کہ وہ لائق اور خادم وطن ہیں تو اس میں کیا شبہ ہے کہ وہ ایسے ہیں۔یہ تو ایک لین دین کا معاملہ ہے کہ باوجود اختلافات کے ایک دوسرے کے بزرگوں کا ادب کیا جاتا ہے۔پوپ روحانی باپ کو کہتے ہیں اب ہم لوگ بھی یہ لفظ استعمال کر لیتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ہم اسے روحانی باپ سمجھتے ہیں یا مذہبی طور پر ہم اسے اپنا پیشوا خیال کرتے ہیں۔جو شخص ان معنوں میں اس لفظ کا استعمال کرے گا وہ عبارت اور لہجہ سے ہی پہچانا جائے گا۔منافق جب کبھی ایسا لفظ استعمال کرے گا تو اس کا لہجہ اور ہوگا لیکن جب مؤمن کرے گا تو اس کا لہجہ اور ہوگا۔پس ان کی معنوں میں اگر کسی نے پنڈت نہرو صاحب کو فخر وطن لکھ دیا ہے تو اس میں کیا حرج ہے جبکہ ہم دوسروں سے امید کرتے ہیں کہ وہ بھی ہمارے بزرگوں کا ادب کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ دوسروں کے لیڈروں کا احترام نہ کریں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم خیالات میں بھی ان سے متفق ہو گئے ہیں۔اگر میری نسبت کوئی غیر احمدی حضرت صاحب کا لفظ استعمال کر دے تو کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ اس نے اپنے ہم عقیدہ لوگوں سے غداری کی؟ اگر آپ لوگ یہ امید کرتے ہیں کہ دوسرے آپ کی کے امام کی عزت کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ دوسروں کے لیڈروں کی عزت نہ کریں اسی لئے قرآن کریم نے یہ تعلیم دی ہے کہ تم کسی کے بُت کو بھی گالی نہ دو کیونکہ وہ خدا کو گالی دیں گے۔۲ تیسرا سوال یہ ہے کہ جب باوجود یکہ فنانشل کمشنر سرولسن نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر زور دیا کہ مسلم لیگ گورنمنٹ کی مرضی کے مطابق کام کرنے والی ہے آپ نے اس کے خلاف اظہار رائے کیا اور فرمایا کہ نہیں یہ بھی اسی روش پر چلی جائے گی جس پر کانگرس جا چکی ہے تو نیشنل لیگ کے قیام کی اجازت کیوں دی گئی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حالات کے بدلنے کے