خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 361

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء کئی بار بتایا ہے کہ مذہب میں تو یہ بات درست ہے مگر سیاست میں نہیں۔سیاست میں جہاں تک کسی سے جوڑ ہومل کر کام کرنا چاہئے۔پس اختلاف کے یہ معنے نہیں کہ مشترکہ امور میں بھی مل کر کام نہ کر سکیں سوائے اس کے کہ نقصان کا خطرہ اور ڈر ہومگر پنڈت نہر وصاحب سے ملنے میں ہمیں کسی نقصان کا ڈر نہیں وہ گاندھی جی سے زیادہ اثر نہیں رکھتے۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے میں تو اس کیلئے بھی تیار ہوں کہ گاندھی جی یہاں آئیں جو چاہیں کہیں ہم سننے کیلئے تیار ہیں۔یہاں ایک دفعہ آریوں کا جلسہ ہوا جس میں انہوں نے ہمارے خلاف بہت شور مچایا ، جلسہ کے بعد ان کے لیکچرار مجھ سے ملنے آئے میں نے ان سے کہا کہ سنا ہے آپ کو جگہ کے متعلق تکلیف ہوئی ، آپ میرے پاس آتے میں مسجد میں انتظام کرا دیتا۔وہ کہنے لگے کیا آپ اپنی مسجد میں اس کی اجازت دے دیتے ؟ میں نے کہا کیوں نہیں۔اگر ہمارے آقا و مولیٰ نے عیسائیوں کی کو مسجد میں اپنے طریق پر عبادت کرنے کی اجازت دی تو میں آپ کو مسجد میں لیکچر کی اجازت کیوں نہیں دے سکتا۔ان میں سے ایک نے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں آج لیکچر دے سکتا ہوں چنانچہ میں نے اجازت دی اور اسی مسجد میں ان کا لیکچر ہوا جس میں میں بھی شامل ہوا۔اس کے بعد آریہ صاحبان کی موجودگی میں حافظ روشن علی صاحب مرحوم نے ان کے اعتراضات کا جواب دیا اس کا ایسا اثر ہوا کہ ان کا جلسہ ہی بند ہو گیا اور شاید بارہ تیرہ سال کے بعد اب ان کا جلسہ ہوا ہے۔تو مومن کیلئے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی اگر دلائل کمزور ہوں تو ڈرنے کی کوئی بات ن بھی ہے لیکن جب مومن کو یہ یقین ہوتا ہے کہ ہم دوسرے کو اپنی طرف کھینچ لائیں گے تو وہ ہمارا شکار ہے اس سے ڈرنا کیوں ہے اور اگر بہ فرض محال ہمارے مخالف کے پاس سچ ہے تو اس کے قبول کرنے پر ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ہمیں احرار سے شکوہ یہ نہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کیوں نہیں مانتے بلکہ یہ ہے کہ انہوں نے اختلاف کولڑائی کی وجہ کیوں بنالیا ہے۔اسی طرح بعض انگریز حکام سے ہمیں یہ شکایت نہیں کہ وہ کیوں سمجھتے ہیں کہ یہ جماعت انگریزوں کے خلاف ہے، وہ اپنے دل میں اگر ایسا سمجھتے ہیں تو سمجھیں ، شکایت یہ ہے کہ وہ بغیر تحقیقات اور تفتیش کے ہمیں کچلنا کیوں چاہتے ہیں۔پنجاب کے ایک کمشنر مسٹر او برائن تھے وہ کہا کرتے تھے کہ سارے انگریز جو جماعت احمدیہ کو دوست سمجھتے ہیں بیوقوف ہیں یہ ایسی منظم جماعت ہے کہ کسی روز