خطبات محمود (جلد 17) — Page 331
خطبات محمود ۳۳۱ سال ۱۹۳۶ء حالت میں کیا کرنا چاہئے۔وہ فرمانے لگے اچھا یہ بتاؤ اگر تم اپنے کسی دوست سے ملنے جاؤ جس کی نے اپنے مکان کی حفاظت کیلئے ایک بڑا سا مضبوط گتا رکھا ہوا ہو اور جب تم اپنے دوست کے مکان میں داخل ہونے لگو تو وہ گتا آئے اور تمہاری ایڑھی پکڑ لے تو اُس وقت کیا کرو گے؟ شاگر کہنے لگا جی میں گتے کا مقابلہ کروں گا اور اسے ماروں گا اگر میرے پاس سوٹی ہوگی تو میں اُسے سوٹی ماروں گا ، پتھر قریب ہوگا تو وہ اُٹھا کر دے ماروں گا۔انہوں نے کہا ٹھیک تم نے گتے کو سوئی ماری یا پتھر مارا اور وہ بھاگ گیا لیکن جب پھر تم نے اندر مکان میں داخل ہونے کی کوشش کی اور کتے کی طرف سے پیٹھ پھیری تو وہ پھر آ گیا اور اس نے تمہاری ایڑی پکڑ لی تو اُس وقت کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا میں اُسے پھر ماروں گا اور اُسے ہٹا کر مکان کے اندر داخل ہونے کی کوشش کروں گا۔انہوں نے فرمایا ای اچھا فرض کرو دوسری دفعہ بھی گتا بھاگ گیا لیکن جب پھر تم دوست سے ملنے کیلئے مکان کے اندر داخل ہونا چا ہو تو وہ پھر تمہیں پکڑلے ایسی حالت میں کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا میں پھر اسے ماروں گا اور اسے ہٹانے کی پوری کوشش کروں گا۔وہ بزرگ فرمانے لگے اگر یہ جنگ اسی طرح جاری رہے گی کہ جب تم مکان کے اندر داخل ہونا چاہو تو گتا تمہاری ایڑی آ پکڑے اور جب تم اُسے مارو توی وہ بھاگ جائے لیکن جب پھر مکان کے اندر داخل ہونے لگے تو وہ پھر آ کر پکڑنا چاہے تو تم اپنے دوست سے مل کس طرح سکو گے اور اس سے ملاقات کا جو مقصد تم لئے ہوئے ہو گے وہ کس طرح پورا ہوگا ؟ شاگرد کہنے لگا جب میں یہ دیکھوں گا کہ یہ جنگ کسی طرح ختم ہونے میں نہیں آتی اور گتا بار بار مجھے آپکڑتا ہے تو میں اپنے دوست کو آواز دوں گا کہ میاں ! تمہارا گتا مجھے نہیں چھوڑتا اسے کی آکر ہٹاؤ۔وہ بزرگ فرمانے لگے بس یہی نسخہ تم نے شیطان کے مقابلہ میں بھی استعمال کرنا ہے۔شیطان اللہ میاں کا گتا ہے اور جب انسان پر بار بار حملہ آور ہو او ر اللہ تعالیٰ کے قریب نہ ہونے دے تو اس کا ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کو پکارو اور اُ سے آواز دو کہ اللہ میاں ! میں آپ کے پاس آنا چاہتا ہوں مگر آپ کا یہ گتا مجھے آنے نہیں دیتا اسے رو کئے تا میں آپ کے پاس پہنچ چی جاؤں۔چنانچہ اس پر اللہ تعالیٰ اسے روک لے گا اور تم اس کے قرب میں بڑھتے چلے جاؤ گے یہی شیطان کے حملوں سے بچنے کا علاج ہے ورنہ مقابلہ کی صورت میں تو انسان کسی طرح اپنے رب کا قرب حاصل نہیں کرسکتا۔تو ہماری حالت اس وقت اس واقعہ کے پہلے حصہ کے مطابق ہے ہم