خطبات محمود (جلد 17) — Page 330
خطبات محمود ۳۳۰ سال ۱۹۳۶ء بجائے اس کے کہ ہمارے اندر ایسی قوت ہو کہ ہم دشمن اور اس کے ساتھیوں کے اعمال میں بھی ایک تغیر پیدا کر دیں اور اسے ہمارا حملہ بچانا پڑے دشمن ہمارے گھروں میں گھس گھس کر ہماری ہے جماعت کے نوجوانوں اور کمزور طبع لوگوں میں نقص پیدا کرتا رہتا ہے اور ہمارا سارا وقت اس اندرونی نقص کی اصلاح میں ہی صرف ہو جاتا ہے۔وہ موقع ہی نہیں آتا کہ ہم دشمن کے اعمال کی بھی اصلاح کریں اور اس کے نقائص کا قلع قمع کریں تا اس کے بداثرات ہمارے اندر داخل ہی نہ ہوسکیں۔گویا ہماری مثال اس واقعہ سے ملتی جلتی ہے جو ایک بزرگ کے متعلق بیان کیا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ ایک بزرگ تھے جن کے پاس ان کا ایک شاگرد کافی عرصہ رہا اور تعلیم حاصل کرتا رہا جب وہ تعلیم سے فارغ ہو کر اپنے گھر جانے لگا تو ان بزرگ نے اُس سے دریافت کیا کہ میاں تم اپنے گھر جا رہے ہو کیا تمہارے ملک میں شیطان بھی ہوتا ہے؟ وہ یہ سوال سن کر حیران رہ گیا اور اس نے کہا شیطان بھلا کہاں نہیں ہوتا ہر ملک میں شیطان ہوتا ہے اور جہاں میں جارہا ہوں وہاں بھی شیطان موجود ہو گا۔آپ نے فرمایا اچھا اگر وہاں شیطان ہوتا ہے تو پھر جو کچھ تم نے میرے پاس رہ کر علم حاصل کیا ہے جب اس پر عمل کرنے لگو گے تو لازماً شیطان تمہارے رستہ میں روک بن کر حائل ہوگا ایسی حالت میں تم کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا میں شیطان کا مقابلہ کروں گا۔وہ بزرگ کہنے لگے بہت اچھا تم نے شیطان کا مقابلہ کیا اور وہ تمہارے دفاع کی تاب نہ لا کر بھاگ گیا لیکن جب پھر تم عمل کی طرف متوجہ ہونے لگے اور خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کے رستوں پر تم نے چلنا شروع کیا اور پھر شیطان پیچھے سے آ گیا اور اس نے تمہیں پکڑ لیا اور تمہیں آگے بڑھنے سے روک لیا تو پھر تم کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا میں پھر شیطان کا مقابلہ کروں گا اور اس سے پیچھا چھڑا کر اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کی جدو جہد میں مشغول ہو جاؤں گا۔انہوں نے کہا بہت اچھا میں نے مان لیا کہ تمہارے مقابلہ کرنے کے نتیجہ میں شیطان اس دفعہ بھی بھاگ گیا اور تم کی جیت گئے لیکن جب پھر تم اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچنے کیلئے جدو جہد کرنے لگے اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوئے اور خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کے ذرائع اختیار کرنے لگے اور تم نے شیطان کی طرف سے پیٹھ پھیر کر اللہ تعالیٰ کی طرف رخ کیا تو پھر شیطان آ گیا اور اس نے تمہیں پکڑ لیا تو پھر کیا کرو گے؟ شاگر د حیران سا رہ گیا اور وہ کہنے لگا مجھے تو پتہ نہیں لگتا آپ ہی فرمائیں کہ مجھے ایسی