خطبات محمود (جلد 17) — Page 329
خطبات محمود ۳۲۹ سال ۱۹۳۶ء نے بیان کیا تھا۔وہ مضمون یہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دو باتیں ہمارے سامنے پیش کی تھیں۔ایک تو عقائد کی اصلاح کے متعلق تھی اور ایک اعمال کی اصلاح کے متعلق تھی۔عقائد کی اصلاح کے متعلق جو تعلیم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش فرمائی اس کے متعلق ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس میں ہمیں ایسی عظیم الشان کامیابی حاصل ہوئی ہے کہ وہی امور جن کے متعلق لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کفر کے فتوے لگاتے تھے ، جنہیں خلاف عقل تسلیم کرتے تھے اور جن کو ماننے اور قبول کرنے کیلئے ملک کا کوئی طبقہ بھی تیار نہ تھا آج ہماری جماعت کے شدید سے شدید معاند اور بدترین مخالف بھی نہ صرف یہ کہ ان کی تردید نہیں کرتے بلکہ انہیں تسلیم کرتے اور ان کی درستی کا اقرار کرتے ہیں اور اب بجائے یہ اعتراض کرنے کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن مجید کی تعلیم کے خلاف عقائد دنیا میں پھیلائے لوگ اگر کہتے ہیں تو یہ کہ یہ سب باتیں تو پہلے سے قرآن مجید میں موجود تھیں حضرت مرزا صاحب کا انہیں پیش کرنا ان کی کونسی خوبی اور کمال ہے۔یہ تغیر کوئی معمولی تغیر نہیں پچاس سال کے اندر دنیا کے لاکھوں نہیں کروڑوں افراد کے قلوب میں ایسا حیرت انگیز اور عظیم الشان انقلاب پیدا ہو جانا الہی نصرت اور اس کی تائید کے بغیر ممکن نہیں اور پھر یہ تغیر نہ صرف ہندوستان میں پیدا ہو چکا ہے، پیدا ہو رہا ہے اور پیدا ہوتا چلا جائے گا اور دنیا کی کوئی طاقت اس تغیر کو رونما ہونے سے نہیں روک سکتی لیکن اس کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو تعلیم عملی اصلاح کے متعلق پیش کی اس کی نسبت ہم دیکھتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ اس پہلو میں ہمارا پلہ دشمنوں پر بھاری ہوتا اور ہم دشمنوں کے اعمال میں بھی ایک بہت بڑی اصلاح کر سکتے یا کم از کم اس تعلیم کے نتیجہ میں ہم اپنے اندر ہی ایسی تی اصلاح کر سکتے جس کو دیکھ کر ہمیں اپنے دل میں یہ محسوس ہوتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تعلیم پر ہم نے عمل کر لیا ہے جو عملی اصلاح کے متعلق آپ نے پیش فرمائی ہمیں نظر یہ آتا ہے کہ ہم دشمن کے عمل سے متاثر ہورہے ہیں اور اُس کی غلطیاں بار بار ہمارے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں اور ہم میں سے جو کمز ور لوگ ہیں بسا اوقات وہ ان غلطیوں کا شکار ہو جاتے اور دشمن کے بداثرات سے متاثر ہو جاتے ہیں۔گو یا عقیدے کی جنگ میں ہمارا پہلو جارحانہ اور ہمارے مخالف کا پہلو مدافعانہ ہے مگر عمل کی جنگ میں ہمارے دشمن کا پہلو جارحانہ اور ہمارا پہلو مدافعانہ ہے اور