خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 783 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 783

خطبات محمود ۷۸۳ سال ۱۹۳۵ء وقت اُسے ضائع کر دینا بہت بڑی بے وقوفی ہوتی ہے۔ان دنوں اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک موقع دیا ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کا بابرکت مہینہ رمضان تمہیں ملا ہے رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں اور آپ سے زیادہ سچا اور کون ہو سکتا ہے کہ ہر چیز کی ایک جزا مقر ر ہے۔نمازوں کی بھی جز امقر ر ہے، زکوۃ کی جزا مقرر ہے، حج کی بھی جزا مقرر ہے مگر روزے کی کوئی اور چیز جزا نہیں۔روزے کی جزا میں خود ہوں۔سے پس اگر کوئی شخص سچے دل سے روزہ رکھتا ہے تو یقیناً اُسے خدا مل جاتا ہے اور اگر کسی کو خدا نہیں مانتا تو معلوم ہوا اُس کے روزوں میں کسی قسم کا نقص رہ گیا ہے ورنہ یہ ہو نہیں سکتا کہ تم سچا روزہ رکھو اور تمہیں خدا نہ ملے۔حقیقی روزہ صرف یہی نہیں کہ تم دن بھر کھاؤ پیو نہیں۔بلکہ روزہ یہ ہے کہ تم اپنی زبان ، اپنی آنکھیں ، اپنے کان ، اپنے ہاتھ اور اپنے پاؤں سب کو اپنے قبضہ میں رکھو۔نہ جھوٹ بولو، نہ جھوٹی باتیں سنو ، نہ غیبت کرو، نہ غیبت کی باتیں سنو، نہ لڑائی کرو، نہ فساد کی جگہ میں بیٹھو، نہ عیب کرو، نہ عیب کی جستجو کرو۔غرض پوری طرح اپنی زبانوں ، کانوں، ناکوں ، ہاتھوں اور پاؤں کو قابو میں رکھوا اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو اور اُس سے ایسی محبت کرو کہ دنیا میں تم نے کسی سے ایسی محبت نہ کی ہو۔یادرکھو اللہ تعالیٰ غیر عاشق کو نہیں ملا کرتا بلکہ اُسے ہی ملتا ہے جو اُس کے عشق میں گداز ہو۔بے شک وہ بادشاہ ہے اور انسان ادنیٰ خادم لیکن محبت صادق اعلیٰ اور ادنی کے امتیاز کو مٹا دیتی ہے۔میں نے اپنے ایک شعر میں اس مضمون کو بیان کیا ہے جو یہ ہے۔طریق عشق میں اے دل سیادت کیا غلامی کیا محبت خادم و آقا کو اک حلقہ میں لائی ہے پس جہاں محبت آجاتی ہے وہاں بڑے اور چھوٹے کا کوئی سوال نہیں رہتا۔یہ سوال وہیں اُٹھتا ہے جہاں محبت نہ ہو۔مگر جہاں عشق ہو وہاں سب امتیازات مٹ جاتے ہیں۔دُنیوی طور پر بعض لوگ شہنشاہ کہلاتے ہیں لیکن جب کسی غریب گنوارن کی محبت میں مبتلاء ہو جاتے ہیں تو وہ اسے ملکہ بنا دیتے اور رؤساء وامراء پر حکمران بنا دیتے ہیں۔اسی طرح جب انسان اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرتا اور اُس کے عشق میں اپنے آپ کو کھو دیتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی اُس کے لئے خالق و مخلوق کا فرق اُڑا دیتا اور اُس سے آکر مل جاتا ہے۔پس محبت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔محبت یہ نہیں کہ تم کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگ جاؤ۔بلکہ محبت یہ ہے کہ تمہاری نماز عشق کی نماز ہو۔تمہارا قرآن مجید