خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 782 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 782

خطبات محمود ۷۸۲ سال ۱۹۳۵ء کرو اگر تم اچھی طرح کام کرو تو اپنے اخلاق میں ایک عظیم الشان اصلاح کر سکتے اور اپنے اندر ایسا تغییر پیدا کر سکتے ہو جو تمہاری ترقیات میں نمایاں اضافہ کا موجب ہو جائے۔بہت لوگ سلسلہ کے دفاتر میں آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے اوقات میں سے اتنا وقت سلسلہ کی خدمت کے لئے وقف کر دیا ہے لیکن تم اپنے دل میں سوچ کر دیکھ لو کہ تم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے یہ وعدہ کیا اور پھر اسے پورا کیا۔اگر اس نے روزانہ ایک گھنٹہ یا دو گھنٹے سلسلہ کی خدمت کے لئے وقف کئے تھے تو کیا وہ سالہا سال روزانہ ایک دو گھنٹے خرچ کر کے سلسلہ کی خدمت کرتا رہا یا دو چار دن وقت دیا اور پھر کبھی خیال بھی نہ آیا کہ میں نے سلسلہ کے لئے کوئی وقت دیا تھا۔اگر تم اپنے نفسوں پر غور کرو گے تو تمہیں معلوم ہو گا کہ تم میں سے اکثر نے وعدے کئے مگر پھر ان وعدوں کو توڑ ڈالا۔لیکن اگر استقلال سے تم کام کرنے کے عادی ہوتے تو آج میں یہ نہ کہتا کہ تم اگر اپنے دلوں کو ٹو لو تو اپنے آپ میں سے اکثر کو وعدہ خلاف پاؤ گے بلکہ میں یہ کہنے کی جرات ہی نہ کرتا اور اگر کرتا تو تم میں سے اکثر کہہ سکتے کہ ہمارے متعلق یہ خیال صحیح نہیں۔اگر ہم نے ایک گھنٹہ روزانہ خدمت سلسلہ کے لئے وقف کیا تھا تو ہمارا خدا بھی گواہ ہے اور لوگ بھی کہ پھر ہم نے اس گھنٹے کو بھی اپنے کام کے لئے استعمال نہیں کیا۔لیکن ایسا جواب دینے والے تم میں سے بہت کم نکلیں گے۔اس کی وجہ ایمان کی کمی نہیں ، ایمان اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمہارے دلوں میں موجود ہے اور نہ صرف ایمان بلکہ راسخ اور مضبوط ایمان اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخشا ہے صرف تمہاری تربیت کا جو حصہ ہے یہ اس کی کمی کا نتیجہ ہے۔ایک شخص میں کتنا ہی ایمان ہولیکن اگر اُسے پریڈ کے لئے کھڑا کر دو گے تو وہ قدم نہیں ملا سکے گا کیونکہ قدم برا بر کرنا اور رنگ کی تربیت چاہتا ہے ایمان کا اس کے ساتھ تعلق نہیں۔جب بھی جنازہ پڑھانے کا موقع ہو یہ نظارہ دیکھنے کا موقع ملتا ہے کہ جب لوگ کھڑے ہوتے ہیں تو صفیں تک سیدھی نہیں بنا سکتے۔اور اگر کہا جائے آگے ہو جاؤ تو گز بھر آ گے ہو جائیں گے پھر کہا جائے کہ پیچھے ہو جاؤ تو دوگز پیچھے ہو جائیں گے اور انہیں دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ سخت گھبرائے ہوئے ہیں۔میرے ادب کی وجہ سے صفیں درست کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں مگر بجائے صفیں درست کرنے کے انہیں اور زیادہ خراب کر دیتے ہیں تو جو تربیت کی باتیں ہیں وہ تربیت سے ہی آسکتی ہیں اس کے بغیر نہیں آ سکتیں پس ایک تو میری یہ نصیحت ہے۔دوسری نصیحت میں یہ کرنی چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جس وقت کسی کو نیکی کا کوئی موقع دے اُس