خطبات محمود (جلد 16) — Page 679
خطبات محمود ۶۷۹ سال ۱۹۳۵ء تمہیں علم دیا ، جس نے تمہیں علم کے سامان دیئے اور جو تمہارے باپ اور تمہاری ماں سے زیادہ تمہارا ہمدرد ہے اُسی خدا کا یہ وعدہ ہے کہ لَا نُسُقِى لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ ذِكْر احضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت دنیا میں کوئی ایسی بات نہیں رہے گی جو آپ کو ذلیل اور رسوا کرنے والی ہو۔کیا تم اپنے باپ کا قرضہ ادا کیا کرتے ہو یا نہیں ؟ کیا تم اپنی ماں کا قرضہ ادا کیا کرتے ہو یا نہیں ؟ اگر ادا کرتے ہو تو پھر خدا کا بھی یہ قرض ہے جسے ادا کرنا تمہارا فرض ہے۔اور اگر تم نے یہ قرض ادا نہ کیا تو وہ خود اس کو ادا کرے گا۔تم اچھی طرح سن لو کہ خدا کا یہ وعدہ ہے کہ اے ما مور! تیرے متعلق ہم دنیا میں کوئی رُسوائی کی بات نہیں رہنے دیں گے۔پس اس وعدہ کے مطابق پہلا فرض تمہارا ہے کہ تم ان رسوا کن باتوں کو دور کرو۔اور اگر نہیں کر و گے تو خدا خود کرے گا مگر جس بات کے کرنے کا وہ اپنے بندوں کو موقع دے، اس سے زیادہ خوش قسمتی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔پس ہم میں سے ہر شخص کو اپنی ہر ایک چیز قربان کر کے بھی خدا تعالیٰ کے اس وعدہ کو پورا کرنا چاہئے۔اور اُس وقت تک چین اور آرام سے نہیں بیٹھنا چاہئے جب تک مخزیات کا وجود دنیا سے نہ مٹ جائے پھر نہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گندی گالیاں دی گئیں بلکہ حضرت اماں جان کو بھی جن کا اِس میں کوئی تعلق نہ تھا گالیاں دی گئیں۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات میں تحریف کر کے مخالفین کی طرف سے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ نَعُوذُ بِاللهِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسول کریم ﷺ کی ہتک کی لیکن حضرت اماں جان کو جن کا اس میں کوئی بھی تعلق نہ تھا انہیں بھی احرار نے گالیاں دیں۔یہاں تک کہ سہارنپور میں ایک موقع پر تقریر میں ان کے متعلق کہا گیا۔دتی کی دتی۔یہ ہے وہ شرافت کا نمونہ جو احرار نے دکھا یا بھلا کونسی حضرت اماں جان نے کتاب لکھی تھی یا کونسی ایسی تحریر تھی جس پر غصہ کھا کر انہوں نے آپ کے متعلق ایسا گندا اور دلخراش لفظ استعمال کیا مگر جب انسان کا دل تاریک ہو جاتا ہے، جب شیطنت اور فسق و فجور اُس کے اخلاق پر موت طاری کر دیتا ہے اور جب انسان حیا و شرم کو بالائے طاق رکھ دیتا ہے اُس وقت وہ اخلاق کو بھول جاتا ہے اور ان گندی اور حیا سوز باتوں پر اتر آتا ہے جن پر چوہڑے اور چمار بھی نہیں اُتر سکتے پھر اس سے ترقی کر کے انہوں نے ہمارے خاندان کے افراد پر ہاتھ اُٹھائے۔چنانچہ میاں شریف احمد صاحب پر حملہ کرایا گیا۔غرض احرار کا کوئی فعل ایسا نہیں جس میں کمی آئی ہو۔گالیاں برابر جاری