خطبات محمود (جلد 16) — Page 680
خطبات محمود ۶۸۰ سال ۱۹۳۵ء ہیں ، گندے الفاظ کا استعمال برابر جاری ہے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر حملوں کا سلسلہ برابر جاری ہے ، اور یہ صرف شہید گنج کے واقعہ سے پہلے کی باتیں نہیں بلکہ اب تک ان گالیوں کا ایک سلسلہ ہے جو ختم ہونے میں نہیں آتا۔چنانچہ میں اس کے ثبوت میں بتا تا ہوں کہ کل کے ” مجاہد اخبار میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کیا لکھا گیا۔میں نے اس اخبار کا صرف ایک صفحہ لیا ہے اور وہ بھی تازہ پرچے کا۔یہ نہیں کہ کوئی خاص پر چہ تلاش کیا ہے اسی سے ہر شخص اندازہ لگا سکتا ہے کہ احرار کی طرف سے کس قسم کی اشتعال انگیز باتیں کہی جارہی ہیں اور کس طرح شرارت اور فتنہ وفساد پھیلانے کی کوشش ہو رہی ہے۔کسی شخص محمد مظہر کے نام سے سے رنومبر کے مجاہد میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق جو بد زبانی کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کہتا ہے ” اس شخص نے چونکہ اپنے وقت میں چوری اور سینہ زوری سے کام لیا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سوانح حیات کے متعلق لکھتا ہے۔66 یہ طومار کذب و دروغ ختم ہونے والی چیز نہیں۔“ پھر لکھتا ہے ” جس طرح یہ فرقہ رحمانی نہیں شیطانی ہے اسی طرح ان کی داستان بھی شیطان کی۔۔۔یہاں سے آنت کی طرح لمبی ہے۔“ پھر لکھتا ہے بعد تکمیل علم اپنی خانگی خدمات کی پیروی کرتے رہے۔سخت ناکامی ہوئی تو سیالکوٹ کا رُخ کیا۔جب یوں گزارہ نہ چلا تو مختاری کے امتحان کی تیاری کی۔اس میں بھی خیر سے فیل ہوئے تو پھر نبی بننے کی ٹھان لی۔" اس کے بعد محمد مظہر نے سراسر جھوٹی تاریخ وضع کرنے کی بھی کارروائی کی ہے اور پہلا جھوٹ یہ بولا ہے کہ سیالکوٹ میں ہی حکیم نور الدین بھیروی سے جو اُن دنوں ریاست جموں میں ملازم تھے مثیل مسیح بننے کے مشورے ہوتے رہے حالانکہ جن دنوں سیالکوٹ میں ملازم تھے۔اس وقت حضرت خلیفہ اول کی عمر میں بائیس یا چوبیس سال کی تھی اور آپ ہندوستان کے مختلف حصوں میں تحصیل علم کرتے پھرتے تھے۔غرض ان ایام میں حضرت خلیفہ اول کے جموں میں ملازم ہونے کی داستان بالکل جھوٹ ہے۔آپ جموں میں اُس زمانہ کے کئی سال بعد ملازم ہوئے مگر جس نے جھوٹ بنانا ہو