خطبات محمود (جلد 16) — Page 678
خطبات محمود ۶۷۸ سال ۱۹۳۵ء تو جو تا لیکر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ کمبخت ! تو روٹی تو ہاتھوں سے پکاتی ہے تیری کہنیاں کیوں ملتی ہیں۔حالانکہ جب کوئی روٹی پکائے گا تو لازماً اُس کی کہنیاں بھی ہلیں گی۔عورت ہو شیار تھی کہنے لگی آپ خواہ مخواہ کھانا کیوں خراب کرتے ہیں میں ہر وقت آپ کے گھر میں ہوں جب آپ چاہیں مجھے مار پیٹ سکتے ہیں اس وقت آپ غصہ نہ کریں۔خون میں جوش پیدا ہوگا اور کھانا ہضم نہیں ہو گا بعد میں جو جی چاہے مجھ سے کہہ لیں۔یہ بات اُس کی سمجھ میں آ گئی اور کھانا کھانے بیٹھ گیا۔ابھی اُس نے پہلا لقمہ ہی منہ میں ڈالا تھا کہ عورت جوتی نکال کر کھڑی ہو گئی اور اُس کی ڈاڑھی پکڑ کر کہنے لگی۔کمبخت ! تو روٹی تو منہ سے کھاتا ہے تیری ڈاڑھی کیوں ہلتی ہے اس پر وہ رئیس ہاتھ باندھ کر کہنے لگا بس بی بی تو جیتی اور میں ہارا ، آگے کو میں کوئی شرارت تجھ سے نہیں کروں گا۔اگر کوئی احرار کو ویسا ہی جواب دینے والا ہوتا تو وہ چند دنوں میں سیدھے ہو جاتے مگر وہ جانتے ہیں کہ ہم نے شرارت کو نہیں چھوڑ نا اس لئے وہ دلیر ہوکر ہر روز ایک نیا بہانہ بنا کر اٹھتے اور ہم پر کوئی نیا الزام لگا دیتے ہیں۔اور یہ سلسلہ چل رہا ہے اب تک جاری ہے اور ختم ہونے میں نہیں آتا۔وہ گالیاں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی گئیں اور وہ ناپاک کلمات جو آپ کے متعلق استعمال کئے گئے ابھی تک استعمال کئے جاتے ہیں اور مولوی عطا اللہ کے مقدمہ کے دوران اور تو اور ایک عدالت نے بھی ان گالیوں کو دُہرا دیا۔یا د رکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت خدا تعالیٰ کا یہ الہام ہے کہ لَا نُسُقِى لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ ذِكْرًا که اے مسیح ! ہم دنیا میں کوئی ذلت ورسوائی کی بات تیرے متعلق نہیں رہنے دیں گے یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے جو اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیا۔مگر خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کو پورا کرنے کا موقع۔بندوں کو دیا کرتا ہے۔کیا وہ خدا جس نے رسول کریم ﷺ کے دشمنوں کی ہلاکت کی خبر دی ، ابو جہل کو نہیں مارسکتا تھا ؟ عتبہ اور شیبہ کو نہیں مار سکتا تھا ؟ اور کیا وہ ان لشکروں کو ہلاک نہیں کر سکتا تھا جو مکہ سے اُٹھے اور مدینہ میں مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے ؟ خدا تعالیٰ ایسا کر سکتا تھا مگر اُس نے یہی چاہا کہ صحابہ کے ذریعہ اس وعدہ کو پورا کرے۔اسی طرح اس خدا نے جو تمہارا خالق و مالک ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ، جس نے تمہیں زندگی کا سامان دیا جس نے تمہاری ماؤں کی چھاتیوں میں تمہارے لئے اُس وقت دودھ پیدا کر دیا جس وقت تم روٹی کو چبا نہیں سکتے تھے ، جس نے تمہیں آنکھیں دیں ، جس نے تمہیں کان دیئے ، جس نے تمہیں ناک دیا ، جس نے تمہیں عقل دی ، جس نے تمہیں ذہانت دی ، جس نے