خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 54

خطبات محمود ۵۴ سال ۱۹۳۵ء نے اطاعت کا عہد لیا اور حکومت ہند نے ایک خاص کمیونک (COMMUNIQUE) کے ذریعہ تسلیم کیا کہ جماعت احمدیہ نے فساد کو روکا ہے اور حکومت کی مدد کی ہے۔ہوشیار پور کے ڈپٹی کمشنر نیز اور بھی کئی مقامات کے حکام نے اقرار کیا کہ احمدیوں کی کوشش سے ان کے علاقے فساد سے بچے رہے ہیں۔حکومت ہند کا کمیونک کوئی معمولی بات نہیں۔سند اور چیز ہے اور کمیونک اور ہے یہ گویا اعلان عام ہے۔لارڈ چیمسفورڈ (Lord Chelmsford) نے میرے نام اپنی چٹھی میں اس کا ذکر کیا کہ حکومت نے ایک کمیونک شائع کیا ہے کہ آپ کی جماعت نے بہت مدد دی ہے۔پھر کابل کی لڑائی ہوئی اور اس موقع پر بھی میں نے فوراً حکومت کی مدد کی۔اپنے چھوٹے بھائی کو فوج میں بھیجا جہاں انہوں نے بغیر تنخواہ کے چھ ماہ کام کیا۔جو اتنا اچھا تھا کہ افسروں نے بعد میں ان کو چھوڑنا پسند نہ کیا اور کوشش کی کہ وہ با قاعدہ تنخواہ دار ملازم ہو جائیں حتی کہ انہیں فارغ کرانے کے لئے مجھے ایجوٹنٹ جنرل (Adjutant General) کو چٹھی لکھنی پڑی اور پھر ان کے حکم سے انہیں فارغ کیا گیا۔اس کے بعد نان کو آپریشن (Non Co-operation) کی تحریک کا زمانہ آیا اس کا مقابلہ کرنے کیلئے میں نے ایک کتاب لکھی جو ایسے زبر دست دلائل رکھتی تھی کہ حکومت نے اس کی سینکڑوں کا پیاں خرید کر تقسیم کرا ئیں اور ہزاروں کا پیاں میں نے خود مفت تقسیم کرائیں کئی محکموں نے لکھا کہ ایسی مدلل اور اعلیٰ کتاب کوئی نہیں لکھی گئی۔پھر ہجرت کا زمانہ آیا ، یہ مسلمانوں پر جنون کا زمانہ تھا ، وہ تجارت ، زمیندارہ اور دوسرے کاروبار ترک کر کے چلے جا رہے تھے ، میں نے اُس وقت مسلمانوں کو سمجھایا اور حکومت کی مدد کی۔اس کے بعد ہر موقع پر جب کانگرس نے شورش کی ہم نے حکومت کی مدد کی۔گزشتہ گاندھی موومنٹ (MOVEMENT) کے موقع پر ہم نے پچاس ہزار روپیہ خرچ کر کے ٹریکٹ اور اشتہار شائع کئے اور ہم ریکارڈ سے یہ بات ثابت کر سکتے ہیں۔سینکڑوں تقریر میں اس تحریک کے خلاف ہمارے آدمیوں نے کیں ، اعلیٰ مشورے ہم نے دیئے جنہیں اعلیٰ حکام نے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا مگر ان سب خدمات کا کیا نتیجہ نکلا ؟ یہی کہ جب وہ لوگ جن سے ہم اس وجہ سے لڑا کرتے تھے کہ وہ حکومت کے خلاف اور اس کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والی حرکات کرتے ہیں جب ہم پر حملہ آور ہوئے تو ہمیں کچھ پتہ نہیں کہ حکومت کیا کر رہی ہے۔ممکن ہے حکومت کی طرف سے کچھ کا رروائی ہو رہی ہو مگر مجھے معلوم نہیں اس لئے ان حالات میں میں مجبور ہوں کہ جماعت کو