خطبات محمود (جلد 16) — Page 53
خطبات محمود ۵۳ سال ۱۹۳۵ء تاریخی مساجد ہیں جنہیں مسلمان بادشاہوں نے اسلام کی عظمت کے نشان کے طور پر تعمیر کرایا باقی عام مساجد کے متعلق میرا یہی خیال ہے کہ تمدنی اور ملکی ضروریات کے لئے یا اگر وہ رستوں میں روک ہوں تو انہیں دوسری جگہ تبدیل کر دینے میں کوئی حرج نہیں۔اس رائے کی وجہ سے اپنوں نے اور بیگانوں نے میرا مقابلہ کیا میری انتہاء درجہ کی مخالفتیں ہوئیں ، مجھے قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔پھر جرمنی کی جنگ ہوئی اس موقع پر ہم نے کئی ہزار والنٹیئر ز دیئے ، سکولوں کے لڑکوں کی پڑھائیاں چھڑوا دیں اور کئی ایسے ہیں جو آج ڈرائیوریاں کرتے پھرتے ہیں محض اس وجہ سے کہ میرے کہنے پر وہ تعلیم ترک کر کے جنگ میں چلے گئے ورنہ آج وہ گریجوایٹ ہوتے۔فرانس کے میدان مصر کے میدان ، شام و فلسطین کے اور عراق کے میدان ، ایران کے میدان ان احمدیوں کے خون سے آج بھی رنگین ہیں جنہوں نے میرے کہنے پر وہاں جا کر جانیں دے دیں۔ان واقعات کے ذکر پر بعض مسلمانوں کی طرف سے ہم پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہم نے انگریزوں کی مدد کی اور ان کے لئے جانیں فدا کیں مگر معترضیں کو یا د رکھنا چاہئے کہ ان کے ہم مذہبوں نے بھی جانیں دیں۔تین لاکھ کے قریب مسلمان میدان جنگ میں گئے جن میں سے احمدی صرف تین ہزار تھے مگر انہیں اپنے آدمی بھول گئے ہیں اور صرف ہمارے یاد ہیں حالانکہ ہم تو اسے جائز سمجھتے ہیں کہ جس حکومت کے ساتھ ہمارا تعاون ہو ، اس کی مدد کی جائے۔مگر ہم پر اعتراض کرنے والے اسے کفر سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی انہوں نے لاکھوں آدمی بھیجے۔پس قابل الزام وہ ہیں نہ کہ ہم۔پھر رولٹ ایکٹ کا زمانہ آیا میں نے اردگرد کے علاقوں کے سکھوں کو جمع کیا تا کہ اس علاقہ کو فساد سے بچالیں۔بعض نے میرے بلانے کا یہ مطلب سمجھا کہ شاید میں خود کو ئی حکومت قائم کرنے کے خیال میں ہوں اور انہوں نے مجھے کہلا بھیجا کہ ہم جانتے ہیں آپ کا خاندان اس علاقہ کا حکمران تھا اور ہم آپ کے لئے جانیں دینے کو تیار ہیں۔مگر میں نے دس دس میل کے فاصلہ سے لوگوں کو یہاں جمع کیا اور انہیں سمجھایا کہ فساد کے طریق سے بچو۔میرے اس مشورہ پر بعض لوگوں نے اس قدر بخشیں کیں کہ لڑنے مرنے پر آمادہ ہو گئے کہ آج ہمارے ملک کے آزاد ہونے کا موقع آیا ہے تو تم ہمیں روکتے ہومگر میں نے منت سے سماجت سے اور مختلف طریقوں سے ان سے اقرار لئے اور انگوٹھے لگوائے کہ ہم امن قائم رکھیں گے حالانکہ اس علاقہ میں بعض ایسے گاؤں بھی تھے جہاں گورنمنٹ کے خلاف نفرت تھی اور جہاں سے پستول برآمد ہو چکے تھے مگر ان سے بھی میں