خطبات محمود (جلد 16) — Page 55
خطبات محمود ۵۵ سال ۱۹۳۵ء۔اجازت دے دوں جس حد تک شریعت اجازت دیتی ہے وہ سیاسیات میں دخل دے سکتی ہے اور حکومت تک اپنی شکایات پہنچا سکتی ہے۔اگر مسلمانوں میں سے بولنے والے لوگ ہمیں دھتکارتے ہیں ،اگر حکومت کے افسر ہماری طرف متوجہ نہیں ہوتے تو ہم مجبور ہیں کہ کسی اور کی طرف ہاتھ بڑھائیں اور اس پر نہ مسلمانوں کو اور نہ حکومت کو شکوہ کرنے کا کوئی حق ہے۔اگر کانگرس ہم سے سمجھوتہ کرے کہ نان کو آپریشن اور بائیکاٹ وغیرہ امور جنہیں تم نا جائز سمجھتے ہو انہیں چھوڑ کر باقی جائز امور میں تعاون کرو اور ہم اس بات کو منظور کر لیں تو حکومت کو کیا شکوہ ہوسکتا ہے۔ہم چھپن ہزار جانوں کو کس طرح خطرہ میں ڈال سکتے ہیں بے شک ہمارا تو کل اللہ تعالیٰ پر ہے لیکن پھر بھی ظاہری سامانوں کی ضرورت بھی وہی بتا تا ہے۔پس چونکہ ڈیموکریٹک طرز حکومت میں کسی نہ کسی کے ساتھ ضرور مل کر رہنا پڑتا ہے اکیلی جماعتیں نہیں رہ سکتیں اس لئے ہمیں حکومت کے ساتھ ، مسلمانوں کے ساتھ ، کانگرس کے ساتھ غرض کسی نہ کسی سے ضرور ملنا پڑے گا اور جو بھی ہماری طرف صلح کا ہاتھ بڑھائے گا ہم اس سے ملیں گے اور اس کے لئے ہر جگہ ہاتھ ماریں گے اور جو بھی ہمیں عزت کے مقام پر رکھ کر اور ہمارے اصول کی قربانی کا مطالبہ کئے بغیر ہم سے صلح کرنا چاہے گا اس کے ساتھ مل جائیں گے۔اپنے اصول کی قربانی کے لئے ہم ہرگز تیار نہیں ہیں خواہ ہمیں کتنے خطرناک حالات کیوں نہ پیش آجائیں۔اگر مسلمان ہمارے ساتھ صلح کے لئے یہ شرط پیش کریں کہ ہندوؤں کے گلے کاٹو تو چونکہ ہم اسے ناجائز سمجھتے ہیں ایسا ہرگز نہیں کریں گے خواہ ہندو ہمیں نقصان ہی کیوں نہ پہنچاتے ہوں۔ہم حکومت کے ساتھ آج تک تعاون کرتے رہے ہیں مگر کوئی نہیں ثابت کر سکتا کہ ہم نے کسی کے خلاف جاسوسیاں کی ہوں یا کبھی نا جائز فائدہ اٹھایا ہو۔یا کبھی ذاتی مفاد کے لئے ہم نے مسلم حقوق کو نظر انداز کیا ہو۔آج حکومت کے کئی افسر ہمارے مخالف ہیں۔اگر ہم نے کبھی ایسا کیا ہے تو انہیں چاہئے کہ ظاہر کریں۔کوئی یہ ثابت کر کے دکھائے کہ ہم نے کبھی حکومت سے اپنے لئے وہ چیز مانگی ہو جو باقی مسلمانوں کے لئے نہیں مانگی۔پھر ہم نے مسلمانوں سے تعاون کیا ہے اور آج مسلمانوں کا ایک حصہ بھی ہمارے مخالف ہے ان میں سے ہی کوئی یہ ثابت کر دے کہ حکومت کے خلاف کبھی کوئی ساز باز کی ہو۔جب ہم حکومت سے ملے ہیں تو مسلمانوں کو بیچنے کی کوشش نہیں کی اور جب مسلمانوں سے ملے ہیں حکومت کے مفاد کو نہیں بیچا۔ہم ہر حال میں اپنے اصول کے پابند رہے ہیں اور رہیں گے، چاہے