خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 569

خطبات محمود ۵۶۹ سال ۱۹۳۵ء گرفتار کرتی۔لیکن میرا خیال ہے کہ اس میں سکھوں کا بھی اتنا قصور نہیں اور ان پر اتنی ذمہ داری نہیں جتنی حکومت اور مسلمان لیڈروں پر ہے۔مسلمان لیڈروں سے مراد’ تحفظ مساجد “ والے نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو پیچھے پیچھے جا کر افسروں سے کہتے تھے کہ ان لوگوں کی کیا حقیقت ہے ، اصل ہم ہیں۔ہم بڑے لوگ ہیں اور ہم ذمہ دار ہیں کہ کوئی فساد پیدا نہیں ہوگا۔ایسے لوگ کونسل کے بعض ممبر اور جماعتِ احرار کے بعض لیڈر تھے انہی لوگوں نے جا جا کر حکومت کو یقین دلایا کہ فساد کا کوئی خطرہ نہیں ، ہم ذمہ دار ہیں۔اب میں اس سوال کو لیتا ہوں کہ ہم نے اس تحریک پر گیارہ لاکھ روپیہ صرف کیا۔اس میں قابل غور امر یہ ہے کہ یہ روپیہ آیا کہاں سے؟ یہ اعتراض سن کر مجھے ایک میراثی کا قصہ یاد آتا ہے۔کہتے ہیں ایک رات ایک میراثی کے ہاں چور داخل ہوا۔چونکہ گھر میں کچھ نہ ملا وہ باؤلے کتے کی طرح ادھر اُدھر پھرتا رہا۔میراثی بھی جاگ رہا تھا مگر چادر کے اندر منہ لیٹے پڑا تھا۔پھرتے پھرتے چور کی نظر ایک سفید چیز پر پڑی جو اصل میں چاند کی روشنی تھی جو چھت کے ایک سوراخ سے چھن کر آ رہی تھی۔چور گھبراہٹ میں اُسے آٹا سمجھا اور اُس نے اپنی چادر بچھا کر چاہا کہ اس میں آٹا ڈال لے مگر جب ہاتھ مارا تو دونوں ہاتھ جوں کے توں آپس میں مل گئے۔میراثی یہ نظارہ دیکھ کر ہنس پڑا اور کہنے لگا۔جمان ! ہمیں تو یہاں سے کبھی دن کو کچھ نہیں ملاتم اندھیرے میں یہاں کیا تلاش کر رہے ہو۔تو ہم پر ایک لاکھ چالیس ہزار قرض ہے ، دو دو ماہ کی تنخواہیں لوگوں کو نہیں ملیں پھر یہ گیارہ لاکھ روپیہ کہاں سے آ گیا۔بے شک تحریک جدید کا کام جاری ہے۔اور اس میں روپیہ آتا ہے مگر اس کا خرچ اس وقت تک اکتیس ہزار کا ہے۔اس میں سے بھی تین ہزار سے زائد پیشگیوں کا ہے۔اس باقی روپیہ میں دفتر کا خرچ جو تین چارسو ماہوار کا ہے شامل ہے۔اسی روپیہ سے پانچ مشنری دوسرے ممالک کو بھیجے جاچکے ہیں، گیارہ ہندوستان میں تیار کئے جا رہے ہیں ، تین تحصیلوں میں وسیع پیمانہ پر تبلیغ ہورہی ہے، اور دس بارہ مبلغ ان میں کام کر رہے ہیں۔کئی اضلاع کی سروے ہو رہی ہے اور پندرہ سولہ آدمی اس کام پر لگے ہوئے ہیں ، ایک اُردو اور انگریزی اخبار چلایا جارہا ہے ، ایک سندھی اخبار کی مدد کی جاتی ہے، اشتہارات اور مفت لٹریچر تقسیم کیا گیا ہے یہ سب کام اس اٹھائیس انتیس ہزار میں ہوا۔پھر اس میں سے کس قدر رقم بچا کر شہید گنج کے فساد کے پیدا کرنے کے لئے نکالی گئی ہے۔گیارہ لاکھ نہیں