خطبات محمود (جلد 16) — Page 568
خطبات محمود ۵۶۸ سال ۱۹۳۵ء اس بارہ میں اطلاع بھی دی ہے مثلاً کسی نے اشتہار شائع کیا اور مددطلب کی تو مدددے دی یا اشتہار بھجوا دیئے تو احمدیوں نے بھی انہیں چسپاں کروادیا جس طرح اور لوگوں نے چسپاں کر واد یا لوگوں میں تقسیم کروا دیا۔چنانچہ قادیان میں ہی بعض احمدی آئے اور آتے ہوئے ساتھ اشتہار لیتے آئے جو یہاں چسپاں کر دیئے گئے۔اس قسم کی امداد کئی احمدیوں نے کی ہے مگر یہ کوئی مجرم نہیں کہ قانون کی حد کے اندر جو اشتہار احرار کے خلاف شائع ہوں اُن کی اشاعت کی جائے۔حکومت کا ان کو ضبط نہ کرنا بتا تا ہے کہ وہ انہیں خلاف قانون نہیں سمجھتی۔پس ایسے امور میں اگر احمد یوں نے انفرادی طور پر یا بہ حیثیت جماعت مدد کی ہو تو یہ کوئی حرج کی بات نہیں اور اسے میں نہ صرف جائز سمجھتا ہوں بلکہ پسند کرتا ہوں۔لیکن یہ صریح جھوٹ ہے کہ یہ تحریک احمدیوں نے چلائی یا نا جائز افعال احمد یوں نے کرائے یا ان کو پسند کیا۔گورنمنٹ کی غلطیوں کے سلسلہ میں میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس نے امن پسند لیڈروں کو مشکلات میں ڈال دیا اور وقت پر بلا کر یہ نہ کہہ دیا کہ سکھ نہیں مانتے ، اب تم جو چا ہو کر سکتے ہو۔اس کا فرض تھا کہ وہ سکھوں سے کہہ دیتی کہ اگر تم نہیں مانتے تو جاؤ جو چاہو کرو۔اور اسی طرح مسلمانوں سے بھی کہہ دیتی کہ جو چاہو کر و مگر جو قانون کو توڑے گا اسے ہم پکڑیں گے۔یہ صریح نا انصافی ہے کہ سکھوں کے جتھے آتے ہیں تو اُن کو آنے دیا جاتا ہے مگر مسلمانوں کے جتھے روک دیئے جاتے ہیں۔حالانکہ تھوڑا عرصہ ہو ا حکومت پنجاب ہمارے متعلق ایک ایسا فیصلہ کر چکی ہے جس کے مطابق اُسے مسلمانوں کو روکنے کا کوئی حق نہ تھا بلکہ چاہئے تھا کہ سکھوں کو روکتی۔راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر نے وہاں کی جماعت کے سیکرٹری کو نوٹس دیا کہ غیر مبائعین نے تمہیں جو چیلنج دیا ہے اسے اگر تم نے منظور کیا تو تمہارے خلاف کا رروائی کی جائے گی۔اس پر ہماری طرف سے کہا گیا کہ نوٹس تو چیلنج دینے والے کو دیا جانا چاہئے تھا نہ کہ ہمیں۔اس پر پنجاب گورنمنٹ کے ایک ذمہ دار افسر نے ہمارے ایک ذمہ دار نمائندے سے کہا کہ یہ اعتراض غلط ہے فساد چیلنج قبول کر لینے سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ دینے سے۔اگر حکومت کا یہ اصل صحیح ہے تو مسلمان جتھے بنا کر جارہے تھے اگر سکھ الگ ہو کر کھڑے ہو جاتے کہ مسجد لے لو تو فساد کس طرح ہو سکتا تھا۔فساد کی تو یہی صورت ہو سکتی تھی کہ سکھ کہتے ہیں ہم نہیں دیتے اور اس اصل کے ماتحت کہ جو چیلنج قبول کرے وہ فساد کرتا ہے،فساد کرنے والے سکھ تھے اس لئے کہ مسلمان تو چیلنج دے رہے تھے اور اس قاعدہ کے ماتحت حکومت کو چاہئے تھا کہ سکھوں کو